.

اسرائیلی صدر کے بھیس بدل کر اردن کے شاہ سے مذاکرات

انوکھے طریقہ سفارتکاری پر ہزاروں یہودیوں کا اظہار پسندیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سیاستدان کیلیے بھری ہوئی بھوری مونچھیں، آنکھوں پر ہمہ وقت سجا چشمہ، سر پر ٹکائی وگ اور وگ پر رکھا ہیٹ روپ بدلنے کیلیے شاید زیادہ مفید نہ ہو، لیکن اسرائیلی صدر شمون پیریز نے اپنے ماضی کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ 1970 کے وسط میں وہ ایسا روپ دھارا کرتا تھا۔

اسرائیلی صدر نے اس سلسلے میں فیس بک پر ایسی تصاویر ''اپ لوڈ'' کی ہیں جو اس کے انوکھے ماضی کی چغلی کھاتی ہیں۔ اسرائیلی صدر کے مطابق جب وہ اسرائیل کا وزیر دفاع تھا تو اردن کے سفر پر جانے کیلیے یہ روپ دھار کر جایا کرتا تھا تاکہ خفیہ مذاکرات کو راز رکھا جا سکے۔

اسرائیلی صدر نے فیس بک کے ذریعے اپنی یہ پرانی تصاویر ایک یہودی تہوار '' پورم ''کے موقع پر ظاہر کی ہیں۔ یہ یہودی تہوار مستی کرنے اور جشن منانے کے حوالے سے ہے۔ اس موقع پر کھلونا بندوقوں کے کھیل کھیلے جانے کے ساتھ ساتھ آتش بازی کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

شمون پیریز نے اپنی تصاویر کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ '' کپڑے پہننے کے حوالے سے پورم ایک اچھا موقع ہے لیکن اس مقصد کیلیے صرف یہی موقع نہیں ہے۔ '' پیریز نے مزید لکھا ہے کہ '' ستر کی دہائی کے وسط میں یہ لباس پہن کر میں اپنا بھیس بدلتا اور اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ مذاکرات کرنے جاتا تھا۔ یہ سلسلہ امن معاہدے تک جاری رہا۔''

واضح رہے اردن اور اسرائیل کے درمیان 1994 میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اسرائیلی صدر کی جانب سے بھیس بدل کر سفارتکاری کرنے سے متعلق اپنی تصاویر فیس بک کے ذریعے سامنے لانے کے بعد تھوڑی ہی دیر میں چھ ہزار یہودیوں نے اس ''سفارتی چال'' پر مبنی تصاویر کو پسند کر لیا ہے۔