.

سعودی عرب اور چین میں تعاون بڑھانے کے لیے 4 سمجھوتے

سعودی مارکیٹ میں جعلی چینی اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے بھی سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور چین کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے چار سمجھوتے طے پائے ہیں۔

جمعہ کو بیجنگ میں ان سمجھوتوں پر دستخطوں کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے کہا کہ ان سے سعودی مملکت کی جانب سے چین کے ساتھ سیاسی ،اقتصادی ،صنعتی ،سائنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ سلمان نے کہا کہ ''ان سمجھوتوں سے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کی گہرائی اور ان کے عوام کی جانب سے تاریخی تعلقات کو جاری رکھنے کے اچھے مقاصد کی عکاسی ہوتی ہے''۔

سعودی عرب اور چین کے درمیان طے پائے پہلے سمجھوتے کے تحت سعودی مارکیٹ میں چین سے جعلی اشیائے صرف کی برآمد کی روک تھام کی جائے گی۔دوسرے سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

تیسرے سمجھوتے کے تحت سعودی عرب چین کی ریاست سانچی میں یونیورسٹی آف لیولیانگ کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے رقوم مہیا کرے گا۔چوتھے سمجھوتے کے تحت سعودی عرب کی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی اور چین کی وزارت تجارت کے زیرانتظام انویسٹمنٹ ڈیویلپمنٹ کمیشن مل کر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔

سعودی ولی عہد نے بیجنگ میں چین کے نائب صدر لی یوان چیاؤ سے ملاقات کی۔شہزادہ سلمان نے جمعرات کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چینی صدر ژی جین پنگ سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے فلسطینی کاز کے حوالے سے چین کے موقف کو سراہتے ہوئے اس پر زور دیا کہ وہ فلسطینی تنازعے اور شام میں جاری بحران کو طے کرانے میں کردار ادا کرے۔

انھوں نے چینی صدر کی جانب سے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے سے منتعلق جاری کردہ بیان کو سراہا۔اس میں چین کی جانب سے جنیوا اول اعلامیے پر مکمل عمل درآمد کے ذریعے شام میں جاری بحران کے جلد اور پُرامن حل کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔