.

"امام مہدی جلد عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں ملا دیں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکردہ شیعہ علماء ان دنوں امام مہدی موعود کے جلد ظہور پذیر ہونے کی پیشن گوئیوں کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی امام مہدی سے خبردار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سرکردہ ایرانی عالم دین آیت اللہ محمد امامی کاشانی نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا "کہ امام مہدی علیہ السلام جلد پردے سے ظہور پذیر ہونے والے ہیں۔ وہ آتے ہیں دنیا کی جابر اور بڑی طاقتوں کے رہنماوں کی گردنیں اڑا کر ان کا غرور خاک میں ملا دیں گے"۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کے لیے"اوباش" اور "بدمعاش" کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ ایران میں انسانی حقوق پر انگلی اٹھانے والے اپنے ہاتھوں سے انسانیت کے بہتے خون کو بھی دیکھیں۔

ایران کے فارسی میڈیا کے مطابق آیت اللہ کاشانی نے تہران میں جمعہ کی نماز سے قبل خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بدمعاش ریاستیں انسانی حقوق کی آڑ میں ہمارے شہریوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ان کا اشارہ حال ہی میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن کے ساتھ ایرانی سول سوسائٹی، خواتین اور طلباء کے وفد کی تہران میں ہونے والی ملاقات کی جانب تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے تصرفات کی بناء پر نہ صرف ایرانی قوم کی نظروں سے گر چکے ہیں بلکہ دنیا میں کہیں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین کی عہدیدار کیتھرین آشٹن آٹھ مارچ کو ایران کے دورے پر اس وقت تہران آئی تھیں جب ایران اور گروپ چھ کے درمیان جوہری تنازع پر مذاکرات ہوئے تھے۔ اپنے اس دورے کے دورن آشٹن نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں کے ساتھ خواتین، طلباء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ ایران کے قدامت پسند حلقوں کو ایرانی شہریوں کا کیتھرین آشٹن کے ساتھ یہ میل ملاپ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کیھترین آشٹن سے ملاقات کرنے والی خواتین سماجی رہ نماؤں میں نرجس محمد اور بجوہر عشقی بھی شامل تھیں۔ عشقی کا ایک بیٹا ستار بہشتی کچھ عرصہ قبل تہران کی ایک جیل میں پراسرار طورپر ہلاک ہو گیا تھا۔

کیتھرین آشٹن پر نکتہ چینی

یورپی یونین کے خارجہ امورکی سربراہ مسز کیتھرین آشٹن کی ایران میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں پرقدامت پسند حلقوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ علامہ محمدی کاشانی کا کہنا ہے کہ کیتھرین نے ہمارے شہریوں کے ساتھ ملاقات کےدوران ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتبصرہ کرتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کیتھرین نے صرف اسی پراکتفا نہیں کیا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر کہا کہ "اسلام کے نام پرانسانوں کا قتل کرنے والے تکفیریوں اور ایرانی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی میں دونوں برابر ہیں"۔

علامہ کاشانی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی عہدیدار ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے آئی تھیں لیکن تہران آمد کے بعد ان کی توجہ یہاں پر انسانی حقوق کی صورت حال پرمرکوز رہی ہے۔ اس سے غیرملکیوں کے مذموم ارادے آشکار ہو گئے ہیں۔

ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف جنرل مسعود جزائری نے بھی کیتھرین آشٹن کی غیر سفارتی سرگرمیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مسز آشٹن نے ایران کے انسانی حقوق کے حلقوں سے ملاقات کرکے اپنی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ملاقاتیں سفارتی قرینوں کی کھلی خلاف ورزی اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مرضہ افحم کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کی جانب سے انہیں تہران اور اصفہان کے نجی دورے کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ تاہم کیتھرین آشٹن نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دورے کے آغاز میں ہی انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے عالم دن کے موقع پرخواتین کے وفود سے ملاقات کا شیڈول بتا دیا تھا۔