.

نیٹو کی ویب سائٹس پر یوکرینی ہیکروں کا حملہ

کئی کمپیوٹروں کو ہائی جیک کرنے کے بعد بے تحاشا ڈیٹا بھیج کر ناکارہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرینی ہیکروں نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کی متعدد ویب سائٹس پر سائبر حملہ کیا ہے اور ان کے کمپیوٹر سسٹمز کو ناکارہ کردیا ہے۔

نیٹو کی خاتون ترجمان اونا لنگسکیو نے اتوار کو ٹویٹر پر ایک بیان میں تنظیم کی ویب سائٹس پر حملے کی تصدیق کی ہے اور ک؛ہا ہے کہ ''ان پر سروس سے انکار (ڈی ڈی اوایس) کا ایک نمایاں حملہ کیا گیا ہے لیکن اس سے کوئی آپریشنل فرق نہیں پڑا''۔

ڈی ڈی او ایس حملے کے تحت ہیکرز مختلف کمپیوٹرز کو ہائی جیک کرلیتے ہِیں اور پھر ان کو ہدف بنانے کے لیے یک دم ان میں بھاری مقدار میں ڈیٹا بھیج دیتے ہیں جس کے نتیجے میں کمپیوٹر سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے۔

لنگسکیو کا کہنا تھا کہ ماہرین ویب سائٹس کو معمول کے مطابق بحال کرنے کے لیے کام کررہے ہیں لیکن اتوار کی شام تک یہ ویب سائٹس بند تھیں اور ان تک رسائی نہیں ہورہی تھی۔

نیٹو کی ترجمان نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ حملہ کس گروپ نے کیا ہے لیکن یوکرین سے تعلق رکھنے والے سائبر برکٹ نامی ایک گروپ نے اس حملے کو قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس گروپ کو یہ نام یوکرینی دارالحکومت کیف میں سابق صدر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران خونیں کریک ڈاؤن میں ملوث پولیس کے نام پر دیا گیا ہے۔

اس گروپ نے اپنی ویب سائٹ www.cyber-berkut.org پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ نیٹو کی یوکرین میں مداخلت اور کیف جنتا کی حمایت کے ردعمل میں کیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہم اپنی سرزمین پر نیٹو کی موجودگی کی اجازت نہیں دیں گے'' لیکن اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

یوکرین سابق روس نواز صدر وکٹر یانوکوویچ کے خلاف فروری میں عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے بحران کا شکار ہے۔ان کے خلاف یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو مسترد کرنے اور روس کے ساتھ ناتا جوڑنے کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔یانو کوویچ کو ان احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور وہ تب سے بھاگ کر روس میں مقیم ہوچکے ہِیں۔

یوکرین میں جاری بحران کے بعد سے ہیکروں کا مغربی اتحادیوں کے کمپیوٹر نظام پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔قبل ازیں 8 مارچ کو یوکرین میں کام کرنے والی برطانوی کمپنی بی اے ای کے سسٹمز پر ''سانپ'' نامی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے متعدد کممپیوٹرز ناکارہ ہوگئے تھے۔اس حملے کے بارے میں ماہرین نے شُبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ روسی ہیکروں کا کام ہوسکتا ہے۔