اوباما کیطرف سے روسی صدر کو پابندیوں کا انتباہ

کریمیا ریفرنڈم یوکرینی دستور کے منافی اور ناقابل قبول ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے کریمیا کے ریفرنڈم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے روس کیخلاف امکانی اضافی پابندیوں کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں یہ انتباہ روسی صدر ولادی میر پیوتن کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

صدر اوباما نے کریمیا کے ریفرنڈم کو یوکرینی دستور کے منافی اور روسی فوج کی ناجائز مداخلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اس ریفرنڈم کو امریکا اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں اپنے اتحادی ممالک کے حوالے سے کہا وہ بھی اس ریفرنڈم کو نہیں مانیں گے۔

واضح رہے 16 مارچ کو ہونے والے ریفرنڈم میں مبینہ طور پر 95 فیصد لوگوں نے روس کا حصہ بن جانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اوباما نے ولادی میر پیوتن کو انتباہ کیا ہے کہ روسی اقدامات یوکرینی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ ملکر روس کیخلاف اقتصادی پابندیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

صدر اوباما کے انتباہ پر روسی صدر ولادی میر پیوتن نے نے کہا ریفرنڈم ہر طرح سے قانون کے مطابق ہوا ہے، اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی بھی پابندی کی گئی ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ '' صدر نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اب بھی مسئلے کے حل کیلیے سفارتی راستہ موجود ہے۔ اس راستے سے روس اور یوکرین دونوں کی عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔

جاری شدہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ '' روسی افواج کی موجودگی میں سفارتی کوشیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ یوکرین کی سرحد پر روسی فوجی مشقیں اشتعال انگیزی کا ذریعہ ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں