.

شامی تنازعہ: اقوام متحدہ کے شام نمائندے کی تہران آمد

الاخضر ابراہیمی کی صدر روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر ابراہیمی نے شامی بحران پر شام کے اہم اتحادی ایران کی قیادت سے تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔ ان کی یہ بات چیت اتوار کو تہران پہنچنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ابرہیمی آج ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور دوسرے ذمہ داروں سے ابراہیمی کے ملاقاتیں اس کے علاوہ ہوں گی۔ ماہ فروری میں جنیوا ٹو کے دورسے دور کی ناکامی کے بعد ایرانی قیادت کے ساتھ شامی تنازعہ پر ابراہیمی کا یہ پہلا ایرانی دورہ ہے۔ ان کا دورہ منگل کے روز تک جاری رہے گا۔

ایران پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بشار رجیم کو فوجی اور مالی امداد دے رہا ہے۔ جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کے فوجی شام میں نہیں ہیں بلکہ صرف انسانی بنیادوں پر شام کی مدد کرتا ہے۔ ابراہیمی ایک ایسے موقع پر ایران پہنچے ہیں جب شام کی بشار فوج نے اہم شہر یبرود کا کنٹرول دو دنوں پر محیط لڑائی کے بعد باغیوں سے واپس لے لیا ہے۔

دوسری جانب شامی بحران کے خاتمے کیلیے جنیوا ٹو میں 15 فروری کو ناکامی پر ختم ہونے والے مذاکرات کیلیے کوئی نئی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔ ایران شام کے تنازعہ کے حوالے سے خطے میں اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ جس کی اتحادی حزب اللہ بشار الاسد کی افواج کی شام پہنچ کر براہ راست امداد کر رہی ہے۔ جبکہ ایران روس کے بعد شام کیلیے سب سے کارآمد ملک ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے دو روز قبل ہی کہا تھا کہ شام کے معاملے میں ایران اہم ملک ہے، اس لیے اس تنازعے کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے جنیوا ٹو میں ایران کو شامل نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے دعوت دینے کے بعد واپس لے لی گئی تھی۔ شامی متحدہ اپوزیشن نے دھمکی تھی کہ ایران کو جنیوا ٹو میں ایران کو شریک کیا گیا تو وہ بائیکاٹ کر دے گی۔

لیکن جنیوا ٹو ہے میں مذاکرات کے دوسرے دور کی ناکامی کے بعد شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندگی کی تہران آمد اہم واقعہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں تعطل کا شکار ہوجانے والے مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہو جائے اور بشار الاسد کا صدارتی انتخاب میں امیدوار بننا بھی زیر بحث آئے۔