.

الجزائر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی نئی لہر

وزیراعظم کا تین شہریوں کے قتل کی فوری تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تازہ کارروائیوں میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ الجزائر کی جنوبی ریاست "غرادیہ" میں وزیراعظم یوسف یوسفی کے دورے سے کچھ ہی دیر قبل پیش آیا۔ فرقہ وارنہ لڑائی میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد شہریوں نے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ وزیراعظم یوسفی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔

الجیرین نیوز ایجنسی کے مطابق وزیراعظم یوسف یوسفی کے ہمراہ وزیر داخلہ طیب بلعیز بھی ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب "غرادیہ" کے دورے پرآئے تھے۔ ان کی آمد کے موقع پر کم وبیش ایک ہزار افراد نے ریاستی گورنر ہاؤس کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور وہ علاقے میں مذہبی فتنہ پردازی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے"اے ایف پی" کے مطابق الجیرین وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جوڈیشل پولیس نے غرادیہ میں تین افراد کے قتل کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پولیس نے متاثرہ علاقوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے اور اب ریاست کی فضاء پرامن ہے اور زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

قبل ازیں سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ اطلاع کے مطابق غرادیہ ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران دو افراد کو تیز دھار آلے سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا جبکہ ایک اہم ریاستی شخصیت کو گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس نے تینوں مقتولین کی میتیں قبضے میں لے کران کا پوسٹ مارٹم شروع کردیا ہے۔ جلد ہی حملے میں ملوث افراد کا پتہ چلا لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ الجزائرکی ریاست تاریخی اہمیت کی حامل علاقہ ہے جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت [یونیسکو] میں ایک عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر درج ہے۔ ریاست میں امازیغی افریقی نسل کا بنی مزاب قبیلہ اورعرب نژاد الشعبانیہ صدیوں سے پرامن زندگی گذارتے چلے آ رہے ہیں۔

گذشتہ بدھ کو اچانک دونوں قبائل کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اوردونوں قبائل کے سیکڑوں افراد نے ایک دوسرے پرحملےکیے۔ جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ دسمبر2013ء اور فروری 2014ء میں بھی ریاست میں پرتشدد واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں چار افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔