''لاپتا طیارے کے معاون پائیلٹ نے آخری گفتگو کی تھی''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کے مسافر طیارے کو لاپتا ہوئے دس روز ہوچکے ہیں لیکن اس کے اچانک غائب ہوجانے کا ہنوز معما حل نہیں ہوسکا ہے۔اس طیارے کو زمین نگل گئی یا آسمان کھاگیا،اس حوالے سے حکام گذشتہ ہفتے عشرے کی تلاش بسیار کے بعد کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔

لاپتا طیارے اور اس میں سوار افراد کے بارے میں نت روز نئی اطلاعیں اور تفصیل سامنے آرہی ہے لیکن تحقیقات کار ان اشاروں اور تانوں بانوں کو جوڑ کر کسی حتمے نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ملائشین ائیرلائنز کے چیف ایگزیکٹو احمد جوہری نے سوموار کو نئی اطلاع یہ دی ہے کہ لاپتا طیارے کے معاون پائیلٹ نے کاک پٹ سے آخری گفتگو کی تھی۔اس کے بعد تحقیقات کار اب پائیلٹ اور معاون پائیلٹ دونوں میں سے کسی ایک خودکشی کے امکان پر بھی سوچنا شروع ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ معاون پائیلٹ تھا جس نے آخری مرتبہ گفتگو کی تھی اور اس کی یہ گفتگو ٹیپ پر ریکارڈ کی گئی تھی''۔ انھوں نے نیوزکانفرنس کے دوران صحافیوں کو یہ بھی بتایا:''ابھِی تک یہ واضح نہیں ہوا طیارے کے خودکار ٹریکنگ سسٹم کو کب ناکارہ بنایا گیا تھا''۔

ملائشیا اور اس کے پڑوسی دس ممالک کے درجنوں بحری جہاز اور طیارے 8 مارچ کو لاپتا ہونے والے طیارے بوئنگ 777-200 ای آر کو تلاش کرر ہے ہیں۔ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کا یہ مسافر طیارہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جارہا تھا اور پرواز کے کوئی پونے گھنٹے کے بعد لاپتا ہو کر راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔

سیٹلائٹ ڈیٹا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ دو وسیع کوریڈروز میں سے کہیں ہوسکتا ہے۔ان میں سے ایک لاؤس سے بحیرہ کیسپئین اور دوسرا جنوب سے مغرب میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا اوربحرہند سے آسٹریلیا کے مغرب تک ہے۔

بحر کیسپئین کے کنارے واقع وسط ایشیائی ملک قزاقستان کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 8 مارچ کو اپنی فضائی حدود کے غیرمجاز استعمال کا کوئی سراغ نہیں لگایا تھا۔اس لیے اس طیارے کے تھائی لینڈ کے راستے شمالی فضائی روٹ کی جانب رخ موڑنے کے کم امکانات ہیں۔

قزاقستان کی سول ایوی ایشن کمیٹی نے سوموار کو ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ''اگر طیارہ وسط ایشیا کی فضائی حدود میں آیا ہوتا تو اس کا ادھر کوئی سراغ بھی لگتا۔اگر آن بورڈ تمام آلات بند بھی کردیے جائیں تو خاموش موڈ میں طیارے کا اڑنا ناممکن ہے''۔کمیٹی کے نائب سربراہ سیرک مختبائیف کے دستخط سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ملک کے فوجی ادارے بھی فضائی حدود کی نگرانی کررہے تھے اور انھیں اس طیارے کے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں