کریمیا اور روس کی 32 شخصیات پرسفری پابندیاں، اثاثے منجمد

یورپی یونین، امریکا نے کریمیا میں ریفرینڈم کے ایک روز بعد روسیوں پر قدغنیں لگا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا اور یورپی یونین نے کریمیا میں جاری بحران میں کردار پر روس اور یوکرین کے بعض عہدے داروں پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کرلیے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے سوموار کو ایک انتظامی حکم جاری کیا ہے جس کے تحت روس کے سات سرکاری عہدے داروں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ان عہدے داروں کی حمایت کرنے والے دوسرے افراد کے نام بھی جاری کرے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے یوکرین سے تعلق رکھنے والی چار شخصیات پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان میں یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکوویچ اور کریمیا سے تعلق رکھنے والے دو علاحدگی پسند لیڈر شامل ہیں۔

امریکا کے اس اعلان سے چندے قبل ہی یورپی یونین نے روس اور کریمیا کی اکیس شخصیات پر سفری پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کر لیے ہیں۔ لیتھوینیا کے وزیرخارجہ لیناس لنک ویشیئس نے کہا ہے کہ ان شخصیات کا نام نہاد کریمیا کی قیادت، روسی منتخب نمائندوں اور خاص طور پر دوما اور مسلح افواج سے تعلق ہے اور انھوں نے غیر قانونی اقدامات میں حصہ لیا ہے۔ وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آیندہ دنوں میں اس ضمن میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ممالک کے سربراہان کا جمعرات اور جمعہ کو برسلز میں دوروزہ اجلاس ہورہا ہے۔اس کے ایجنڈے میں یوکرین کا بحران سرفہرست ہو گا۔ یورپی وزرائے خارجہ نے روس کی تیرہ اور کریمیا کی آٹھ شخصیات پر پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے نام تنظیم کے روزانہ کے سرکاری جرنل میں شائع کی جارہی ہیں۔ان پر یوکرین کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

امریکا اور یورپی یونین نے یہ پابندیاں کریمیا میں اتوار کو استصواب رائے کے انعقاد کے ایک روز بعد عاید کی ہیں۔ کریمیا کے رائے دہندگان نے ریفرینڈم میں کثرت رائے سے کریمیا کی روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

امریکا اور یورپی یونین نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قراردے کر مسترد کر دیا ہے اور اس کو خود روس کے بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کی علاقائی خود مختاری اور سالمیت کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس کی پاسداری میں ناکام رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں