.

ایران میں سی آئی اے کا سربراہ جوناتھن بینک معطل

پاکستان سے بھی نکلنا پڑا تھا، وجہ ساتھیوں سے رویہ بنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں ڈرون حملوں میں اہم کردار ادا کرنے والے سی آئی اے کے سربراہ جوناتھن کو ایران میں ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنے سٹاف کیساتھ گالی گلوچ پر مبنی رویہ رکھنے کے باعث معطل کر دیا گیا ہے۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر اصرار کرنے والے امریکی حکام کے مطابق جوناتھن بینک سی آئی اے میں ایک کیرئیر آفیسر ہیں لیکن تاہم انہیں ایک محکمانہ تفتیش کے بعد انتظامی نوعیت کی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

سابق سی آئی حکام کے مطابق جوناتھن بینک کا ماتحت عملہ ان کے خلاف کھلے باغیانہ پن پر اترا ہوا ہے۔ ماتحتوں کے اس رویے کی وجہ جوناتھن کو انتظامی انداز بنا ہے۔

واضح رہے سی آئی اے کا عملہ ایران اور اس کے جوہری پروگرام کی جاسوسی کے لیے متعین سی آئی اے کا ڈویژن عملا اس وجہ سے ابتری کا شکار بن گیا ہے۔ اس بارے میں سِی آئی اے کی طرف سے کہا گیا ہے ہے کہ نجی معاملات کو ہم زیر بحث نہیں لاتے ہیں۔ تاہم سی آئی اے ترجمان نے یہ ضرور کہا ہے کہ سی آئی اے اپنے منتطم افسران کا احتساب کرتی ہے۔

ترجمان ڈین بوید کا کہنا تھا '' بالعموم سی آئی اے اپنے ہر سطح کے افسران اور منتظمین سے توقع رکھتی ہے کہ وہ قائدانہ مہارتوں کا مظاہرہ کریں اور ایسا ماحول فراہم کریں جو ان کے ماتحتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مفید ہو۔''

ترجمان کے مطابق '' ہم صورت حال کا پوری توجہ اور سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کے مطابق ضروری اقدامات کریں گے، جہاں تک جوناتھن بینک کا تعلق ہے انہیں 2010 میں اسلام آباد سے سٹیشن چیف کی ذمہ داری سے واپس بلایا گیا تھا۔

امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا '' پاکستان میں سی آئی اے چیف کا نام پاکستانی حساس ادراوں کے حکام کی در پردہ کوششوں سے پاکستانی میڈیا میں سامنے آیا تھا۔ کیونکہ پاکستان میں ڈرون حملے کرانے میں 46 سالہ جوناتھن کا کردار اہم تھا۔