طیب ایردوان فوجی آمروں سے بدتر حکمران ہیں: فتح اللہ گولن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے سرکردہ مذہبی رہنما فتح اللہ گولن نے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی پالیسوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایردوآن کی جمہوری حکومت سے فوجی آمریت دس گنا بہتر ہے۔

ان خیالات کا اظہار فتح اللہ گولن نے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ گذشتہ برس دسمبر میں وزیر اعظم طیب ایردوآن کے اور ان کی حکومت کے کرپشن اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد گولن کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔ حکومت نواز ذرائع ابلاغ یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ ایردوآن کے خلاف کرپشن پروپیگنڈے کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے۔

امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کا کہنا تھا کہ "میں نے کئی فوجی آمرانہ حکومتیں دیکھیں اور ان کے مظالم سہے ہیں مگر ایردوان سے بدتر کوئی حکمران نہیں گذرا ہے۔ ان کے بہ قول جیسا سلوک موجودہ حکومت کی طرف برتا جا رہا ہے ایسا تو فوجی حکومتوں کے ادوار میں بھی نہیں ہوا۔

تُرک اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ہمارے پر ایسے سول حکمران مسلط ہیں جنہوں نے عوام کو ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کر رکھا ہے۔ موجودہ حالات پر مُجھے دُکھ ہے لیکن میں صبر اس کے خاتمے کا منتظر ہوں۔

خیال رہے کہ سنہ 1960ء سے 1980ء تک چار مرتبہ فوجی انقلابات کے ادوار میں فتح اللہ گولن کی تحریک کو سیکولر نظام کی مخالفت کی پاداش میں دبانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

فتح اللہ گولن اور ان کے حامی اسلام پسندوں کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ سنہ 2002ء کے پارلیمانی انتخابات میں گولن تحریک نے موجودہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی کھل کر حمایت کی تھی۔ گذشتہ برس ایرودآن اور ان کے ماضی کے حلیف فتح اللہ گولن کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت وقت کی ایک خوفناک کرپشن کہانی کا آغاز ہوا۔

دوسری جانب وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کے زیر انتظام تعلیمی اداروں پر کرپشن اسکینڈل تیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فتح اللہ گولن انہیں بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں