.

ولادی میر پوتین نے کریمیا کو خود مختار ریاست تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کریمیا میں منعقدہ ریفرینڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس کو ایک خودمختار اور آزاد ملک تسلیم کر لیا ہے اور اس ضمن میں انھوں نے ایک فرمان پر دستخط کردیے ہیں۔

کریمیا کے رجسٹرڈ ووٹروں نے اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں کثرت رائے سے اپنی ریاست کی یوکرین سے علاحدگی اور روس میں شمولیت کی منظوری دی ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے اس ریفرینڈم کے انعقاد ہی کو سرے سے تسلیم نہیں کیا اور اس کو غیر قانونی قراردے کر مسترد کردیا ہے۔

امریکی صدربراک اوباما نے سوموار کو ایک انتظامی حکم جاری کیا ہے جس کے تحت روس کے سات سرکاری عہدے داروں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ان عہدے داروں کی حمایت کرنے والے دوسرے افراد کے نام بھی جاری کرے گا۔

صدر اوباما کے انتظامی حکم کے تحت ان روسیوں کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں اور کوئی بھی امریکی ان کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرسکتا۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا تو اس پر مزید پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے یوکرین سے تعلق رکھنے والی چار شخصیات پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان میں یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکوویچ اور کریمیا سے تعلق رکھنے والے دو علاحدگی پسند لیڈر شامل ہیں۔

صدر براک اوباما نے روس کو مزید پابندیوں پر انتباہ کیا ہے لیکن روسی صدر نے ان کی دھمکی کو درخور اعتناء نہیں سمجھا اور کریمیا کو خودمختار ریاست تسلیم کر لیا ہے۔

امریکا کے اس اعلان سے چندے قبل یورپی یونین نے روس اور کریمیا کی اکیس شخصیات پر سفری پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کر لیے ہیں۔لیتھوینیا کے وزیرخارجہ کے بہ قول ان شخصیات کا نام نہاد کریمیا کی قیادت،روسی منتخب نمائندوں اور خاص طور پر دوما اور مسلح افواج سے تعلق ہے اور انھوں نے یوکرین اور کریمیا میں غیر قانونی اقدامات میں حصہ لیا ہے۔