.

کریمیا روس میں شامل، کریملن جی ایٹ سے معطل

یوکرین اور مغرب نے کریمیا کی روس میں شمولیت کو مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور کریمیا نے ریفرینڈم کے انعقاد کے دو روز بعد ایک معاہدے پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت روس نے امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود جزیرہ نما علاقے کو اپنا حصہ بنا لیا ہے جبکہ کریملن کی آٹھ بڑی طاقتوں کے گروپ جی ایٹ میں رکنیت معطل کردی گئی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے منگل کو کریمیا کے وزیراعظم سرگئی اکسسیونوف اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ کریملن میں ایک تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس موقع پر روسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ارکان بھی موجود ہیں۔روسی پارلیمان اب اس معاہدے کی توثیق کرے گی۔

معاہدے کے تحت جمہوریہ کریمیا روس کا حصہ بن گیا ہے۔ ولادی میر پوتین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کے تحفظ کے لیے وہ تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

ردعمل

امریکا اور یورپی یونین نے کریمیا کو ضم کرنے کے اقدام کی مخالفت کی ہے اور روس پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس نے کہا ہے کہ گروپ ایٹ کے لیڈروں نے روس کی یوکرین میں جاری بحران اور کریمیا کو ضم کرنے پر کلب میں رکنیت معطل کردی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابئیس نے یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی 8 کے دوسرے سات ممالک میں پائی جانے والی تشویش کے پیش نظر ہم نے روس کی شرکت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گروپ کے رکن سات دوسرے ممالک پہلے ہی جون میں روس کے شہر سوچی میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت سے انکار کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا میں اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں 77۔96 فی صد رجسٹرڈ ووٹروں نے علاقے کی روس میں شمولیت اور کریملن کی عمل داری کے حق میں ووٹ دیا تھا۔مغرب اور یوکرین نے کریمیا میں ریفرینڈم کے انعقاد ہی کو سرے سے غیر قانونی قراردیا ہے۔

درایں اثناء برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے لندن میں دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ نے روسی فوج کے ساتھ فوجی تعاون معطل کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پوتین نے یوکرین کے علاقے کریمیا کو ضم کرکے روس کی تنہائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔

یوکرینی وزارت خارجہ نے بھی جزیرہ نما کریمیا کی روس میں شمولیت کومسترد کردیا ہے اور اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان یاویجن پیری بائنس نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم کریمیا کی نام نہاد آزادی اور اس کی روس میں شمولیت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے''۔ ترجمان نے کہا کہ کریملن میں روس اور کریمیا نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں،اس کا جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اجتماعی دانش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔