مصری طالبہ کو اجتماعی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش ناکام

طالبہ نے غسل خانے میں چھپ کر عزت بچائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک یونیورسٹی کالج کے احاطے میں اوباش نوجوانوں نے ایک طالبہ کو اجتماعی طور پر ہرساں کرنے کی کوشش کی جس پر اسے بھاگ کر غسل خانے میں پناہ لینا پڑی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ قاہرہ یونیورسٹی کے لاء کالج کے احاطے میں اندر پیش آیا۔ اوباش لڑکوں نے طالبہ کو گھیسٹ کر اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش کی، لیکن اس نے شور مچا دیا، جس پر حملہ آوروں نے اسے چھوڑ دیا طالبہ نے بھاگ کر ایک غسل خانے میں پناہ لے کر اپنی عزت بچائی۔

جامعہ کے چیئرمین ڈاکٹر جابر نصار نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لڑکی کو قصور وار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبہ نے انتہائی نامناسب کپڑے پہن رکھے تھے۔ ڈاکٹر جابر کے بقول ایسا لباس اوباش لوگوں کو چھیڑ چھاڑ کی دعوت دینے کے مترداف ہے۔

خیال رہے کہ مصر کی جامعات اور کالجوں میں خواتین کو اجتماعی طور پر ہراساں کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نا مناسب لباس زیب تن کرنے والی لڑکیاں اس نوعیت کےسماجی جرائم کے فروغ کی ذمہ دار ہیں، تاہم ان کے برعکس آراء رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جب اوباش نوجوان کسی کالج کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوتے ہیں تو وہ کسی مُحجب اور غیر محبب لڑکی میں کوئی امتیاز نہیں کرتے ہیں۔ مصری سماج میں اس نوعیت کے واقعات کی ایک بڑی وجہ فلموں اور سینما گھروں کا کردار بھی بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں