سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روسی اقدام سنگین خطرہ ہے:نیٹو

روس کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا:آندرے فوگ راسوسمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے روس کی جانب سے یوکرین کے جزیرہ نما علاقے کریمیا کو ضم کرنے کے اقدام کو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قراردیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے فوگ راسموسین نے بدھ کو ایک بیان میں روس کو خبردار کیا ہے کہ اس کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ 1990ء کے عشرے میں بلقان کے خطے اور 2008ء میں جارجیا میں بحران رہا تھا لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ کی سلامتی اور استحکام کے لیے کریمیا کا بحران سب سے بڑا خطرہ ہے۔

درایں اثناء امریکا نے روس پر زوردیا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ کریمیا میں موجود فوجی اڈوں پر پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات کرے۔امریکانے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس تنازعے پر اس کی یا اتحادی فوج کی ہلاکتیں ہوتی ہیں تو ان کا ذمے دار صرف وہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''روسی فورسز کی یوکرین کی فوجی تنصیبات پر قبضے کے لیے کوششیں ایک خطرناک صورت حال کو جنم دے رہی ہیں''۔

ترجمان نے کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے باوجود اس کو یوکرین کا حصہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ ''روس کو یوکرینی حکومت کے ساتھ فوری طور پر اس علاقے میں موجود یوکرینی فورسز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کرنی چاہیے''۔

ادھر یوکرین کی سکیورٹی اور دفاعی کونسل کے سربراہ آندری پاروبیے نے ایک نشری نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ کریمیا میں تعینات فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو واپس لانے کے لیے منصوبہ وضع کیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون روس اور یوکرین کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔وہ یوکرینی اور روسی قیادت کے درمیان کریمیا میں جاری بحران کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات کا آغاز کرانے کی کوشش کریں گے۔وہ جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوتین اور جمعہ کو یوکرینی صدر اولکسیندر ترچینوف اور عبوری وزیراعظم آرسینی یتسینوک سے ملاقات کریں گے۔

ان کے ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بین کی مون ماسکو اور کیف کے درمیان ایک تعمیری بات چیت شروع کرانا چاہتے ہیں جس سے بحران کے سفارتی حل کی راہ ہموار ہو کیونکہ حالیہ دنوں میں معاملات خراب ہوجانے کے باوجود وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ بحران کے پُرامن حل کا راستہ ابھی کھلا ہے''۔

کریمیا نے ریفرینڈم کے انعقاد کے دوروز بعد منگل کو روس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت الحاق کر لیا تھا اور امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود روس نے جزیرہ نما علاقے کو اپنا حصہ بنا لیا ہے جس پر اسے تنقید کا سامنا ہے۔ مغرب اور یوکرین نے کریمیا میں ریفرینڈم کے انعقاد کو سرے سے غیر قانونی قراردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں