ناجائز مراسم پر ایرانی عورت سنگساری کی سزا سے بچ گئی

عورت کوخاوند کے قتل کے جرم میں پھانسی کا حکم دیا گیا تھا:سربراہ عدلیہ کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے ایک اعلیٰ عدالتی عہدے دار کا کہنا ہے کہ 2006ء میں زنا کے جرم میں موت کی سزاپانے والی عورت کو سنگسار نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ محمد جواد لاری جانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس عورت کو ناجائز جنسی تعلقات اور اپنے خاوند کے قتل کے جرم میں الگ الگ سزائیں سنائی گئی تھیں اور اس کی سنگساری کی سزا کو ایران کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے تو خوب اچھالا گیا تھا لیکن قتل کی سزا کو بالکل نظرانداز کردیا گیا۔

دوبچوں کی ماں چھیالیس سالہ سکینہ محمدی اشتیانی کو ایرانی عدالت نے15مئی 2006ءکو دوافراد سے ناجائزمراسم کے جرم میں قصوروارقراردے کرسنگسار کرنے کا حکم دیاتھا۔اس سزا کے خلاف عالمی سطح پراحتجاج کیا گیا تھا۔سکینہ پراپنے شوہر کو قتل کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا اوراسے اس مقدمے میں ننانوے کوڑے مارنے کی سزابھی دی گئی تھی۔

2007ء میں ایک اپیل عدالت نے اس کے خلاف سنگساری کی سزا بحال رکھی تھی لیکن جولائی2010ء میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق لاری جانی نے بین الاقوامی دباٶ کے بعد سنگساری کی سزاپرعمل درآمد روک دیاتھا اور اس کیس کا ازسر نو جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔

محمد جواد لاری جانی کا کہنا ہے کہ سنگساری کی سزا کو تو مغرب نے پروپیگنڈے کے طور پر خوب اچھالا ہے اور قتل کی سزا کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا رہا ہے حالانکہ اس عورت کو تو حتمی فیصلے میں قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔جواد لاری جانی کا یہ بیان کمیٹی کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔(www.humanrights-iran.ir).

انھوں نے کہا کہ ''ہم مقتول کے خاندان سے قصاص کے لیے رضامندی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور لوگوں نے خون بہا ادا کردیا ہے''۔ایرانی قانون کے تحت اگر مقتول کا خاندان مجرم کو معاف کردیں تو اس کو سزا میں معافی مل سکتی ہے یا اس کی پھانسی کی سزا قید میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سکینہ اشتیانی اس وقت اپنے اچھے رویے کی وجہ سے جیل سے چھٹی پر ہے۔احمد لاری جانی نے بیان میں وضاحت کی ہے کہ ''مجرمہ نے اپنے ایک آشنا کے ساتھ مل کر اپنے خاوند کو قتل کیا تھا لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اس کو زنا کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی اور ایران کے خلاف اس کیس کو پروپیگنڈے کے طور پر اچھالا جاتا رہا ہے''۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاری جانی نے حال ہی میں ججوں پر زوردیا ہے کہ وہ ایسے فیصلے نہ دین جس سے اسلامی جمہوریہ ایران کا امیج داغدار ہوسکتا ہو۔

ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد نافذالعمل اسلامی قانون کے تحت ناجائز جنسی تعلقات کی سزا سنگساری ہے لیکن 2013ء میں اس قانون میں ترمیم کی گئی تھی اور ججوں کو ایسے مجرموں کو دوسرے طریقوں سے موت سے ہم کنار کرنے کی سزا دینے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں