امریکی ریاست ٹیکساس میں ''مسلم طوفان'' آ گیا

گوروں کی نفرت اور نسل پرستی پر مسلمانوں میں رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ریاست ٹیکساس میں رواں ہفتے کے دوران آنے والے طوفان کو امریکی شہریوں نے مسلم طوفان کا نام دے دیا۔ بظاہر اس طوفان کو یہ نام اس کے زور اور شدت کی بنیاد پر دیا گیا ہے، لیکن امریکا میں رہنے والے مسلمان بالعموم اور ٹیکساس میں رہنے والے مسلمان بالخصوص اسے مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار سمجھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عربی زبان میں ''حبوب'' کی اصطلاح آندھی اور طوفان کیلیے استعمال کی جاتی ہے لیکن ''حا بوب'' کی اصطلاح غیر معمولی ناراضی کیلیے عرب دشمن اور مسلم دشمن تبصروں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ کہا گیا کہ مسلم طوفان لباک کے شہر کی طرف رخ کر رہا ہے جو بدھ کے روز ٹیکساس کو متاثر کر رہا تھا۔

امریکا میں رہنے والے عبیداللہ نامی ایک مسلمان کا کہنا ہے کہ ''حبوب کا شور و غوغا اس مشین کی پیداوار ہے جو غیر ملکیوں سے تعصب کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عجیب اور خوفناک گرد و غبار ایسے لوگ ہیں۔''

اس کا مزید کہنا ہے کہ ''یہ حبوب نہیں امریکا ہے، اس پر فخر کیجیے اور اس طرح کے ناراضی والے الفاظ اور نسل پرستانہ خیالات کے بعد اپنے اوپر فخر کیجیے۔'' عبیداللہ نے فیس بک پر آنے والے چند تبصروں کو پڑھتے ہوئے کہا ہے ''جب مسلمانوں کے ذخیرہ الفاظ اور تراکیب کو استعمال کیا جاتا ہے تو میں جارحیت محسوس کرتا ہوں، اس لیے ان سے کہتا ہوں کہ انہیں گرد و غبار سے بھرا طوفان کہنے سے باز آ جاو۔''

عبیداللہ کا مزید کہنا ہے '' ٹیکساس میں محکمہ موسمیات کا سٹیشن ہیڈ جان رابن سن اس طوفان کو حبوب کہنا چاہتا ہے، اسے وہاں چلے جانے دیجیے جہاں ریت کے ایسے طوفان کو حبوب کہا جاتا ہے۔ '' واضح رہے یہ لفظ حبوب سوڈان میں برے موسم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جسے امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

ایک امریکی ویب سائٹ نے اس بارے میں لکھا ہے کہ ''مسلم دہشت گرد حبوب پر ٹیکساس میں افراتفری ہے '' جب اس اصطلاح پر غصہ ظاہر ہوا تو جوابی طور پر نسل پرستی کے ریمارکس آئے۔ ایسے ہی ریمارکس میں کہا گیا ''آپ اپنے نسل پرستانہ تبصرے کا احساس رکھتے ہیں جو کہ پورے لباک کی عزت میں کمی کا باعث ہیں۔'' مزید لکھا ہے '' آپ لوگ حقیقتا غیر روا دار اور نسل پرست ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں