حجاب اوڑھنے کی اجازت نہ دینے پر امریکی جیم پر مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے شہر نیو میکسیکو کے ایک جیم نے ایک مسلم خاتون کو سرپوش اوڑھنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اس خاتون نے اس جیم کے خلاف قانونی دعویٰ دائر کردیا ہے۔

سینتیس سالہ افریقی مسلم خاتون ترینیا میکڈینیل اور پلینٹ فٹ نس کے درمیان 2011ء سے تنازعہ چلا آرہا ہے لیکن خاتون نے حال ہی میں نیومیکسیکو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دعویٰ دائر کیا ہے جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرپوش اوڑھنے کی صورت میں انھیں جیم استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا حالانکہ وہ اس سے قبل اسی علاقے میں سرپوش اوڑھ کر ایک اور جیم میں جاتی رہی تھیں۔

میکڈینیل نے نیو ہمپشائر میں قائم جیم چین پلینٹ فٹ نس کے ساتھ دوسال کا معاہدہ کیا تھا۔پہلے تو اس مسلم خاتون کو البوکوئرک میں ایک جیم میں آنے کے لیے کہا گیا لیکن دو سال کے بعد انھیں ایک اور مقام پر واقع جیم میں جانے کے لیے کہا گیا۔

3اکتوبر 2011ء کو اس نئے جیم نے سرپوش اوڑھنے کی صورت میں مسلم خاتون کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور یہ کہا کہ سرپوش جیم کے لباس کے ضابطے کے مطابق نہیں ہے۔میکڈینیل نے جیم سے یہ درخواست کی تھی کہ مسلم عقیدے کے مطابق انھیں سرپوش اوڑھنے کی اجازت دی جائے لیکن جیم نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔

پلینیٹ فٹ نس کی وکیل ایریکا اینڈرسن کا کہنا ہے کہ سرپوش جیم کے لباس کے ضابطے کے خلاف ہے لیکن ان کی موکل کمپنی کا موقف ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ ہی نہیں تھے کہ خاتون مذہبی مقاصد کے لیے سرپوش اوڑھ رہی ہیں۔اس خاتون وکیل نے اس کیس کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب کمپنی نے اپنے خلاف مسلم خاتون کی قانونی چارہ جوئی کے بعد یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ''جیم میں ممبروں کی مذہبی وابستگی کا ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور ''پلینٹ فٹ نس'' میں ہماری ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ ممبرز کو مذہبی وجوہ کی بنا پر سرپوش اوڑھنے کی اجازت ہے''۔

میکڈینیل نے نیومیکسیکو کے انسانی حقوق ایکٹ اور ناروا اعمال ایکٹ کے تحت جیم کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور اس میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پلینٹ فٹ نس نے غیر قانونی طور پر مذہب کی بنیاد پر انھیں جیم میں داخلے سے روکا ہے حالانکہ اس کے پاس ایسا کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔

اس کمپنی نے اپنے باضابطہ جواب میں نیومیکسیکو کے انسانی حقوق ایکٹ اور ناروا اعمال ایکٹ کی خلاف ورزی سے انکار کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ درخواست گزار میکڈینیل نیک نیتی کے ساتھ جیم کی سرگرمی میں شرکت میں ناکام رہی تھیں جبکہ کمپنی تو قانون کے مطابق کاروبار کررہی ہے اور امتیازات کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں