کابل: طالبان کا ہوٹل پر حملہ، 9 ہلاک، متعدد زخمی

ہلاک ہونے والوں میں چار غیر ملکی اور پانچ افغانی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان کی طرف سے کابل کے ایک پُرآسائش ہوٹل میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیے گئے حملے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 9 ہو گئی ہے۔ مارے جانے والوں میں غیر ملکی سفارتکار، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے حکام نے اس امر کی با ضاطہ طور پر تصدیق کر دی ہے۔ واضح رہے طالبان کی طرف سے یہ ہولناک کارروائی افغانستان کے متوقع صدارتی انتخاب سے محض دو ہفتے پہلے کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق مرنے والوں میں تین غیر ملکی خواتین، تین مرد اور دو بچے شامل ہیں۔

چار نوجوان جنہوں نے پستول اپنی جرابوں میں چھپا رکھے تھے کابل کے سرینا ہوٹل کی سکیورٹی کے کئی حصار توڑتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ سرینا ہوٹل کابل میں آنے والے اہم ترین مہمانوں کی قیام گاہ سمجھا جاتا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں پیراگویا سے تعلق رکھنے والا ایک سفارتکار بھی شامل ہے جو صدارتی انتخاب کی مانیٹرنگ کیلیے کابل آیا تھا۔ دریں اثناء وزیر داخلہ محمد ایوب سالانگی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے، ان میں پانچ افغانی اور چار غیر ملکی ہیں۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات 5 اپریل کو کرائے جانے کی تیاری ہے۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے اس موقع پر حملوں نے شدت پیدا کرنے کی تیاری کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں