لاپتا ملائشین طیارے کی تلاش کی کارروائیوں میں تیزی

ملائشیا ایئرلائنز کا ایک طیارہ دو ہفتے سے لاپتہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ملائشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے لیے زیادہ بڑے پیمانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے نئی سیٹیلائٹ تصاویر کی مدد بھی لی جا رہی ہے جن سے ممکنہ طور پر سمندر میں کسی مقام پر ملبے کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔

آسٹریلین میری ٹائم اتھارٹی (اے ایم ایس اے) کے مطابق بحرِ ہند کے جنوبی علاقے میں مختلف امدادی ٹیمیوں نے اتوار کو تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے مزید کوششیں کی جائیں گی کہ آیا نئی سٹیلائٹ تصاویر میں دکھائی دینے والی اشیا کا تعلق لاپتا پرواز MH370 سے ہے یا نہیں۔

چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف سائنس ٹکنالوجی اینڈ انڈسٹری نے ایک نئی تصویر جاری کی ہے جو سٹیلائٹ سے 18 مارچ کو لی گئی تھی۔ اس تصویر میں بحرِ ہند کے جنوبی علاقے میں ایک بڑا ٹکڑا تیرتا ہوا دیکھا گیا جس کی لمبائئی ساڑھے بائیس میٹر اور چوڑائی تیرہ میٹر ہے۔

آسٹریلیا نے بھی جمعرات کو 16 مارچ کو سٹیلائٹ سے لی گئی ایک تصویر جاری کی تھی جس کا مقام نئی تصویر میں دکھائی دینے والے مقام سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اے ایم ایس اے کے مطابق نئی تصویر کے مقام کا اندازہ لگا لیا گیا ہے جو قبل ازیں تلاش کے لیے ہدف بنائے گئے علاقے میں ہی آتا ہے۔ اے ایم ایس اے نے ہفتے کو رات گئے ایک بیان میں کہا: ’’ہفتے کو یہ ٹکڑا نہیں ملا۔ اتوار کو تلاش کی کارروائیوں میں ہفتے کو ملنے والی معلومات کو مدِنظر رکھا جائے گا۔‘‘

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے اے ایم ایس کے حوالے سے بتایا ہے کہ رائل آسٹریلین نیوی کا بحری جہاز ایچ ایم اے ایس سکسیس ہفتے کو رات گئے مقررہ مقام کے علاقے میں پہنچ گیا ہے جہاں موجود دو تجارتی بحری جہاز بھی تلاش کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

آسٹریلین میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق رپورٹ ملی ہے کہ ایک سول ایئر کرافٹ سے پانچ کلومیٹر کے محیط میں دُوربین کے بغیر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دیکھے گئے ہیں۔

ملائیشیا ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ دو ہفتے قبل ملائشیا سے چین جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔ اس کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں تاہم تاحال کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ طیارے پر سوار دو تہائی افراد چین کے شہری ہیں۔ حادثے کی تصدیق ہو گئی تو یہ چین کے لیے دوسرا بڑا فضائی حادثہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں