.

"السیسی کا صدارتی انتخاب لڑنا قومی ذمہ داری ہے"

سابق صدر مرسی کی حکومت بحرانوں کا باعث بنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کی حمایت کرنے والے قدامت پسند قبطی عیسائیوں کے نمائندہ گرجا گھر کے سرکردہ پادری نے کہا ہے کہ وزیر دفاع فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اب صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیں کیونکہ یہ ان کی قومی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کا ہر شہری السیسی کو ایک ہیرو اور نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے جنہوں نے 30 جون کو اسلام پسند صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر قوم پر بہت بڑا احسان کیا تھا۔

قبطی مسیحی پوپ تواضروس دوم نے ان خیالات کا اظہار ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر دفاع فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کریں۔

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں مسلسل انقلابات نہ تو "عرب بہاریہ" ہیں اور نہ ہی انہیں"عرب خزاں" کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ "عرب سرما" ہیں۔ یہ انقلابات ان عناصر کی کارستانی ہے جو عرب خطے کی طاقت کو تقسیم کر کے انہیں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بانٹنے کی مذموم سازشیں کر رہے ہیں۔ تیس جون 2013ء کے بعد مصر درست سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب ملک میں ایک نیا اور نمائندہ دستور ہے جس کے تحت قوم کی مرضی کے مطابق صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

پوپ تواضروس کا کہنا تھا کہ تیس جون 2013ء کا دن مصریوں بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے معمول کا دن نہیں بلکہ تاریخ کا ایک نیا موڑ تھا۔ اس دن اخوانیوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور قومی اجماع نے جنم لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عیسائی راہبات مصری پرچم اٹھائے اس تاریخی لمحے میں اپنی مسلمان محجب بہنوں کے شانہ بہ شانہ چلتی رہی ہیں۔

مرسی کا اقتدار باعث بحران

معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پوپ تواضروس نے کہا کہ "محمد مرسی کی حکومت ملک میں یکے بعد دیگرے بحرانوں کا باعث بنی رہی۔ ملک کا کوئی نمائندہ ادارہ، جماعت، طبقہ اور سول سوسائٹی صدر محمد مرسی کی پالیسیوں سے خوش نہیں تھی۔

معزول صدر نے اپنے گردو پیش صرف اخوانیوں کا ھجوم جمع کر رکھا تھا جو تکبر اور اقتدار کے گھمنڈ مبتلا تھے۔ دنیا بھر میں مصر کی بدنامی ہو رہی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ ایسی حکومت کو جلد از جلد چلتا کیا جاتا۔ وطن عزیز کی مسلمان اور مسیحی برادری نے پرامن طریقے سے اخوانیوں کو اقتدا سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب میں طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں فوج جو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑی۔

عیسائی پادری کا کہنا تھا کہ گو کہ محمد مرسی مذہب کی بنیاد پر حکومت کر رہے تھے لیکن وہ کسی طور پر مصر کی تاریخ اور تہذیبی روایات کے نمائندہ نہیں رہے۔ وہ پورے مصر کے نہیں بلکہ صرف اخوان المسلمون کے صدر تھے۔

ایک سوال کے جواب میں عیسائی پادری نے کہا کہ ملک میں جب بھی کوئی بحران اٹھا تو عیسائی چرچ نے ملک کو بچانے کے لیے ایک "ہیرو" کا کردار نبھایا۔ مغربی میڈیا کے سامنے مصر میں عیسائی عبادت گاہوں کو منظم طریقے سے تباہ کیا جاتا رہا لیکن مغربی ذرائع ابلاغ نے حقائق کو غلط رنگ میں پیش کیا۔ اپنے دورہ امریکا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پوپ تواضروس کا کہنا تھا کہ "مجھے گذشتہ برس اکتوبر میں امریکا کا دورہ کرنا تھا لیکن بوجوہ میں دورہ نہیں کرسکا ہوں اور نہ ہی میں نے دورے کی کوئی نئی تاریخ مقرر کی ہے۔