لاپتا طیارہ بحر ہند میں گر کر تباہ ہوگیا: ملائشین وزیراعظم

نئے سیٹلائٹ ڈیٹا سے ایم ایچ 370 کی تلاش کا معما حل، تمام مسافر مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے سوموار کو لاپتا مسافرطیارے کے بحرہند کے دور دراز علاقے میں گر کر تباہ ہونے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس بدقسمت پرواز میں سوار کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا تھا۔

ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کے لاپتا طیارے کی تلاش گذشتہ سولہ روز سے جاری تھی لیکن آج سوموار کو اس کے بارے میں نئی سیٹلائٹ معلومات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نجیب رزاق نے اس کے سمندر میں غرق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

انھوں نے کوالالمپور میں نیوز کانفرنس میں کہا:''نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ میں آپ کو مطلع کررہا ہوں کہ نئے ڈیٹا کے مطابق پرواز ایم ایچ 370 بحر ہند کے جنوب میں گر کر تباہ ہوگئی تھی''۔

انھوں نے برطانیہ کی فضائی حادثات کے تحقیقاتی محکمہ کے فراہم کردہ ڈیٹا کے حوالے سے لاپتا مسافر طیارے کے بارے میں یہ نِئی اطلاع دی ہے۔اس نئے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارے کی آخری پوزیشن آسٹریلوی شہر پرتھ کے مغرب میں تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائشین ائیر لائنز نے طیارے کے مسافروں کے عزیزواقارب کو اس نئی افسوسناک خبر سے مطلع کردیا ہے۔

اگر اس اطلاع کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ لاپتا طیارے کی تلاش کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوگی۔ملائشین وزیراعظم کے اس اعلان سے قبل لاپتا جیٹ کی تلاش کرنے والے چین کے ایک فوجی طیارے نے بحر ہند کے جنوب میں مشتبہ اشیاء دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔فرانس کے خلائی سیارے نے بھی پرتھ سے جنوب میں پچیس سو کلومیٹر کے علاقے میں سمندر میں تیرتی ہوئی بعض چیزیں دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔

ملائشیا کا یہ مسافر طیارہ 8 مارچ کو کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ کے لیے روانہ ہوا تھا اور پرواز کے کوئی پون گھنٹے کے بعد لاپتا ہو کر راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔ملائشیا اور دوسرے دس بارہ ممالک کے درجنوں بحری جہاز ،عام اورفوجی طیارے اس بوئنگ 777-200 ای آر کی تلاش میں سرگرداں تھے۔

ہفتے کے روز ایک عام طیارے نے بحر ہند کے اوپر نچلی پرواز کے دوران بعض اشیاء دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔بعد میں چین کے فوجی طیارے اور فرانس کے سیٹلائٹ نے بھی اسی علاقے میں مشتبہ اشیاء اور ممکنہ طور پر لاپتا طیارے کے ملبے کے بعض حصے دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔

قبل ازیں سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کہا گیا تھا کہ لاپتا طیارہ دو وسیع کوریڈروز میں سے کسی ایک میں ہوسکتا ہے۔ان میں سے ایک لاؤس سے بحیرہ کیسپئین اور دوسرا جنوب سے مغرب میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا اوربحرہند سے آسٹریلیا کے مغرب تک ہے۔اس طرح لاپتا طیارے کے ملبے کا اس دوسرے کوریڈور میں سراغ لگایا گیا ہے۔

ایمرجینسی لینڈنگ

درایں اثناء سوموار کو ملائشین ائیرلائنز کے کوالالمپور سے سیول جانے والے ایک اور مسافر طیارے نے جنریٹر کے کام چھوڑجانے کے بعد ہانگ کانگ میں ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔

ہانگ کانگ کے ائیرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوموار کو علی الصباح تین بجے کے قریب ائیربس اے 330-300 کے اترنے سے قبل ہی ہنگامی انتظامات کر لیے تھے اور طیارہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے کے بغیر بحفاظت اتر گیا ہے۔

ملائشین ائیرلائنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پرواز ایم ایچ 066 کا بجلی فراہم کرنے والے جنریٹر خراب ہو گیا تھا جس کے بعد اس کا رُخ چین کے جنوبی شہر کی جانب پھیر دیا گیا۔ تاہم جیٹ طیارے کا معاون پاور یونٹ برابر بجلی مہیا کرتا رہا تھا۔ اس طیارے میں دو سو اکہتر مسافر سوار تھے اور انھیں دوسری پروازوں کے ذریعے ہانگ کانگ سے سیول کے نزدیک واقع اینچئین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب روانہ کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں