لیبیا:مسلح افراد ''کیش وین'' سے 6لاکھ ڈالرز لوٹ کر فرار

مشرقی شہروں میں لاقانونیت اور طوائف الملوکی کا دور دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے مختلف علاقوں میں سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے تین سال بعد بھی بد امنی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔اس سے اسلامی جنگجو گروپوں کے زیر قبضہ علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں اور مشرقی شہر درنۃ میں مسلح افراد نے نقدی لے جانے والی ایک وین سے چھے لاکھ ڈالرز لوٹ لیے ہیں۔

لیبیا کی سرکاری خبررساں ایجنسی لانا کے مطابق درنۃ میں پانچ مسلح افراد نے بنک میں نقدی لے جانے والی ایک وین کو رو کا اور اس میں موجود ساڑھے سات لاکھ لیبی دینار(چھے لاکھ پانچ ہزار امریکی ڈالرز) کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔ یہ رقم ٹیلی مواصلاتی کمپنی لبیانا کی جانب سے بنک منتقل کی جارہی تھی۔

درنۃ لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی سے مشرق میں واقع ہے۔اس شہر میں لیبیا کی کمزور مرکزی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور سخت گیر اسلامی جنگجوؤں نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقے میں طوائف الملوکی کے پیش نظر مغربی سفارت کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ درنۃ غیرملکی اور مقامی اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بنتا جارہا ہے جو وہاں سے شام یا مصر کا رُخ کررہے ہیں۔

لیبیا کے بیشتر علاقوں میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بدامنی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔طرابلس ،بن غازی اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں مگر لیبی حکومت ان مسلح گروپوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔وہ اسلحے کی نوک پر اپنے مطالبات منواتے اور سرکاری اداروں سمیت لوگوں سے رقوم اینٹھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں