.

سعودی انٹیلی جنس چیف کی منصب پر جلد واپسی

مغربی میڈیا کی قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں، علالت کے پیش نظر منظر سے غائب تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان دوبارہ اپنا منصب سنبھالنے کے لیے جلد دارالحکومت ریاض لوٹ رہے ہیں۔

ایک باخبر سعودی ذریعے نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شہزادہ بندر جلد وطن واپس آرہے ہیں۔اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ''یہ بلاشبہ تہران ،دمشق اور حزب اللہ کے لیے ایک بری خبر ہے۔خاص طور پر سعودی عرب مخالف میڈیا کے لیے جو گذشتہ دوماہ سے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کررہا تھا کہ شہزادہ بندر کو برطرف کردیا گیا ہے اور اسی وجہ سے وہ منظر سے غائب ہیں۔نیز یہ کہ سعودی عرب نے علاقائی تنازعے سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے''۔

ریاض میں موجود اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ''شہزادہ بندر طبی وجوہ کی بنا پر منظرسے غائب تھے۔البتہ انھوں نے اسی ہفتے مراکش کے شہر مراکش میں اپنی ذمے داریاں ادا کرنا شروع کردی ہیں اور انھوں نے سابق لبنانی وزیراعظم سعد حریری اور ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی ہے''۔

اس ذریعے کے مطابق ''شہزادہ بندر ایک ہفتے کے اندر ریاض واپس پہنچ جائیں گے۔وہ امریکا کے ایک اسپتال میں اپنے کندھے کی سرجری کے بعد مراکش میں تیزی سے روبصحت ہورہے ہیں اور انھیں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جولائی 2012ء میں جو اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں،وہ سنبھال لیں گے''۔

واضح رہے کہ شہزادہ بندر نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح اور سیاسی جدوجہد کرنے والے جیش الحر اور شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کی مدد میں پیش پیش رہے تھے۔اب ان کی واپسی سے مغربی میڈیا کے ذریعے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران منظرعام پر آنے والی قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس کی نفی ہوجائے گی۔

مغرب کی خبررساں ایجنسیاں اور سرکردہ اخبارات نے ان کی علالت کا تذکرہ تو ضرور کیا تھا لیکن بعض کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی انٹیلی جنس کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا ہے۔بعض تجزیہ کاروں نے اپنے طور پر یہ نتیجہ بھی اخذ کرنے کی کوشش کی تھی کہ شہزادہ بندر کو خطے میں امریکا کی پالیسی کی مخالفت اور موجودہ امریکی انتظامیہ پر کھلے عام تنقید کی وجہ سے معزول کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کی تنقید کی وجہ سے وائٹ ہاؤس خوش نہیں تھا۔