.

"شام، سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل میں ناکام"

روزانہ 200 سے زائد افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں: یو این رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ خانہ جنگی سے متاثرہ شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد دینے کیلیے شام پہلے سے منظور شدہ قرارداد کی پابندی میں ناکام ہے۔ سیکرٹری جنرل نے اس حوالے اپنی رپورٹ باضابطہ طور پر پیش کر دی ہے۔

تیرہ صفحات پر مشتمل اس تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرار داد میں تمام فریقوں کو عملدرآمد کا پابند بنایا گیا تھا لیکن شامی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں عمل نہ ہو نے کے باعث کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2139 میں متاثرہ شہریوں تک امدادی ایجنسیوں اور ریلیف کا کام کرنے والے کارکنوں کو رسائی دینے کیلیے کہا گیا تھا۔ سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو فروری کے اواخر میں متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

سیکرٹری جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ '' شام اس وقت دنیا میں سلامتی، امن و امان اور انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت کے حوالے سے بدترین صورت حال سے دو چار ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ فوری طور پر تشدد کا خاتمہ ہو اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کا حل سامنے آئے۔''

رپورٹ کے مطابق '' یومیہ بنیادوں پر سویلینز سمیت 200 سے زاید افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ '' رپورٹ میں یو این تحقیقاتی کمیشن نے اس صورت حال کے حوالے سے بشار رجیم کے ساتھ ساتھ باغیوں اور اسلام پسند عسکری تنظیموں آئی ایس آئی ایل اور النصرہ فرنٹ کو بھی مطعون کیا گیا ہے۔

یہ چیز بھی اس رپورٹ کے ذریعے سامنے لائی گئی ہے کہ انسانیت کے خلافت شدد، دیگر غیر انسانی کارروائِیاں اور جنگی جرائم شام کیسرکاری فورسز اور باغیوں کی طرف سے مسلسل جاری ہیں۔ فروری میں منظور کردہ قرارداد کے باوجود سرکاری افواج نے تقریبا دو لاکھ بیس ہزار شہریوں کو مختلف جگہوں پر بشمول دارالحکومت دمشق ان کے گھروں اور آبادیوں میں زبردستی محصور کر رکھا ہے۔

سلامتی کونسل کے حکام سے'' العربیہ '' کو معلوم ہوا ہے کہ اس رپورٹ پر جمعہ کے روز بحث شروع ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق شام کے 35 لاکھ شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔ اس تعداد میں تقریبا دس لاکھ جنگ زدہ لوگوں کا اضافہ رواں سال میں ہوا ہے۔