.

"ایران انتہا پسند شیعہ ازم کے فروغ کا ذمہ دار ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اسلامی مسالک کے درمیان دوریاں مٹانے کے ذمہ دار ادارے کے سپریم لیڈر آیت اللہ محمد علی تسخیری نے ایک منفرد بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو اسلامی دنیا میں انتہا پسند شیعہ ازم کے فروغ کا ذمہ دار قرار دیا ہے

پاسداران ایران کی مقرب سمجھی جانے والی 'تسنیم' نامی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں محمد علی تسخیری کا کہنا تھا کہ "ہم نے بھی اسلامی دنیا میں قرابت، باہمی رابطے اور ایک دوسرے کے بارے میں سمجھ بوجھ پیدا نہ کر کے کمزوری کا ثبوت دیا ہے، ایسا کرنے میں ناکامی دراصل اسلامی دنیا میں انتہا پسند شیعہ ازم کے فروغ کا باعث بنی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمارے درمیان انتہا پسند موجود ہیں کہ جو دوسروں کے لئے مقدس مقامات و شخصیات کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، ایسا کر کے وہ تکفیری سوچ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔"

آیت اللہ تسخیری کی کڑی تنقید میں دراصل انتہا پسند شیعہ عالم دین آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی کی جانب اشارہ تھا۔ علامہ محمد تقی امام خمینی ریسرچ فاونڈیشن کی ماہرین کمیٹی کے رکن رکین ہیں اور حالیہ چند دنوں میں ان کی جانب سے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان کی شان میں گستاخانہ بیان جاری ہوا تھا، جس پر ایران سمیت دنیا بھر کے اہل سنت میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی تھی۔

یاد رہے کہ انتہا پسند شیعہ عالم دین مصباح یزدی نے خلیفہ سوئم حضرت عثمان کے دور خلافت کے بعض تصرفات کو ان کی شہادت کا ذمہ دار دیا تھا۔ اس بیان کے بعد اہل سنت مسلک کی پیروکار اہل بلوچ تنظیم جیش العدل نے ایرانی فوجیوں کے اغوا کو مصباح یزدی کے بیان کا ساخسانہ قرار دیا تھا۔

علامہ مصباح کی دینی مرکزی قم چلنے والی خمینی فاونڈیشن اہل سنت اور ان کے رہنماوں کے خلاف افترا پردازِی کا سلسلہ بلا روک جاری رکھے ہوئے ہے۔

درایں اثنا آیت اللہ تسخیری نے خطے میں جنگی مہم جوئی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پر لازم ہے کہ مقدور بھر کوشش سے خود کو علاقائی جنگ میں جھونکنے سے روکیں۔