.

''عرب لیگ، شام کی خالی نشست شامی اپوزیشن کو دی جائے''

عرب سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں سعودی ولی عہد کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس میں میں شام کی خالی نشست متحدہ اپوزیشن کو دینے کیلیے کہا ہے۔ اس سے پہلے عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کہہ چکے ہیں کہ شامی اپوزیشن کو یہ نشست ضروری تقاضے پورے کیے بغیر نہیں دی جا سکتی ہے۔

شہزادہ سلمان نے شام کی صورت حال کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ زمین پر ''طاقت کا توازن تبدیل'' کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں بحران تباہ کن حد تک بڑھ چکا ہے۔

ولی عہد شہزادہ سلمان نے کویت میں عرب لیگ کی سالانہ سربراہی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا "شام میں بشار الاسد رجیم کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کیلیے باغیوں کی زیادہ امداد کرنے کی ضرورت ہے۔ ''

واضح رہے عرب لیگ نے سربراہ کانفرنس میں شام کو اپنے ایجنڈے میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے۔ شامی مسئلے کو ترجیحی اہمیت دینے کی وجہ سے ہی شامی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے بھی اس سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا اور شام کی نشست ان کے زیر قیادت شامی اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کیا۔

احمد الجربا نے اپنے خطاب میں کہا ''عرب لیگ میں شامی نشست خالی رکھ کر بشارالاسد کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنے لوگوں کو اور مارو کہ جنگ کا فیصلہ ہوتے ہی یہ نشست تمہیں دے دی جائے گی۔''

واضح رہے رواں ماہ مارچ کے وسط میں شامی خانہ جنگی کا چوتھا سال شروع ہو چکا ہے۔ اس دوران اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار سے زاید لوگ مارے جا چکے ہیں۔ عرب لیگ کا سربراہی اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل عرب وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ ''یو این چارٹر کے باب سات کے تحت شام کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔

یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ عرب ریاستیں مصری سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں پیدا ہو جانے والے علاقائی اختلاف کو فی الحال الگ رکھیں گی۔ اس سے پہلے مصر اور سعودی عرب، اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دے چکے ہیں اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین اسی معاملے پر اختلاف کے باعث قطر سے اپنے سفیر واپس بلا چکے ہیں۔

مصر کے عبوری وزیر خارجہ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عرب سربراہ کانفرنس کے دوران قطر کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ ممکن نہیں ہے کیونکہ زخم بہت گہرے ہیں۔''

عرب ملکوں کے اس اختلاف کے باعث سربراہی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی اعلی ترین قیادت کے بجائے ''لو پروفائل'' شخصیات کر رہی ہیں۔ میزبان ملک کویت کے علاوہ سربراہی کانفرنس میں صرف قطر کی نمائندگی اعلی ترین سطح سے موجود ہے۔

خلیجی ممالک سے لو پروفائل وفود شریک ہیں سعودی شاہ عبداللہ کی نمائدگی ان کے ولی عہد شہزادہ سلمان کر رہے ہیں جبکہ اومان کے سلطان قابوس نے اپنے خصوصی نمائندے کو بھیجا ہے۔

فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک فلسطینی اتھارٹی کیلیے ماہانہ بنیادوں پر ایک سو ملین ڈالر کی امداد دینے کی منظوری دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب عرب لیگ نے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر قبول کرنے سے پہلے ہی انکار کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمد عباس امریکی صدر براک اوباما سے اپنی تازہ ملاقات کے بارے میں عرب رہنماوں کو اعتماد میں لیں گے۔