.

یمن:دارالحکومت صنعا سے اغوا مغربی سفارت کار رہا

دوگاڑیوں میں سوار مسلح افراد اطالوی شہری کو زبردستی اٹھا کر لے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوجیوں نے دارالحکومت صنعا سے اغوا کیے گئے اقوام متحدہ کے عملے کے رکن ایک اطالوی سفارت کار اور اس کے ڈرائیور کو رہا کرا لیا ہے۔

یمنی پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اغواکاروں کا سراغ لگا لیا گیا تھا اور انھوں نے صنعا سے شمال مشرق میں ایک مکان میں ان دونوں کو رکھا ہوا تھا۔اطالوی سفارت کار اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا ملازم ہے اور اس کی صحت بہتر بتائی گئی ہے۔

اس یمنی عہدے دار کے مطابق اغوا کاروں کو دارالحکومت صنعا کے نواح میں ایک چیک پوائنٹ پر روک لیا گیا تھا۔انھیں گرفتار اور یرغمالیوں کو رہا کرالیا گیا ہے۔اس ذریعے نے اغوا کاروں کی شناخت نہیں بتائی۔

روم میں اطالوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے لیے کام کرنے والے اطالوی شہری کو رہا کردیا گیا ہے۔تاہم بیان میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

یمنی وزارت دفاع نے صحافیوں کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجیوں نے شمال مشرقی صوبہ مآرب میں اطالوی کو رہا کرا لیا ہے۔اس کو صنعا کی ایک شاہراہ سے اغوا کرنے کے بعد وہاں منتقل کردیا گیا تھا۔

قبل ازیں منگل کو صنعا میں سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ مسلح اغوا کار سفارت کار کو زبردستی اغوا کر کے لے گئے تھے۔وہ دوگاڑیوں میں سوار تھے۔انھوں نے صنعا کے علاقے ہدیٰ میں سفارت کار کی کار کو روکا جس پر اس سفارت کار اور اس کے ساتھ سوار خاتون نے ان سے الجھنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران مسلح افراد ایک ٹیکسی سے اترے اور وہ ان دونوں کو اپنے ساتھ گاڑیوں میں بٹھا کر لے گئے تھے۔

صنعا کے جس علاقے میں اغوا کی یہ وارادات ہوئی تھی،اسی علاقے میں مختلف سفارت خانے واقع ہیں اور وہاں ہر وقت سکیورٹی اہلکار گشت کرتے رہتے ہیں۔پہلے اس سفارت کار کی شہریت یا اس کے ساتھ عورت کی شناخت نہیں بتائی گئی تھی۔اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین سفارت کار کے ساتھ کوئی عورت نہیں بلکہ مرد ڈرائیور تھا۔

واضح رہے کہ یمن میں 31 جنوری کے بعد سے تین یورپیوں کو اغوا کیا جاچکا ہے۔گذشتہ ماہ صنعا میں ایک برطانوی ٹیچر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔یمن میں ایک عرصے سے اغوا برائے تاوان کی وارداتیں نفع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرچکی ہیں اور اغوا کار بالعموم تاوان وصول کرکے یا پھر حکومت سے اپنے مطالبات منوا کر یرغمالیوں کو رہا کردیتے ہیں۔گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران یمنی قبائلیوں نے سیکڑوں افراد کو اغوا کیا ہے اور انھیں حکومت کے ساتھ اپنے تنازعات چکانے کے لیے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یرغمالی کا تعلق مغرب ،امریکا یا برطانیہ سے ہو تو پھر اغواکاروں کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہوسکتا ہے لیکن بالعموم اس طرح کی وارداتوں کا بنیادی محرک رقوم کا حصول ہی ہوتا ہے۔ایسی زیادہ تر وارداتیں نفع رسانی کے لیے کی جاتی ہیں اور غربت کا شکار یمن میں یہ روزگار کا پُرکشش ذریعہ بن چکی ہیں کیونکہ کسی یرغمالی مغربی شہری کی رہائی کے لیے تاوان میں بھاری رقوم مل جاتی ہیں۔