.

اسامہ کے داماد اور القاعدہ کے سابق ترجمان پر فرد جرم عاید

9/11 حملوں کی سازش میں ملوث ہونے پر سزائے عمر قید کا سامنا کرنا پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک کی ایک عدالت میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے داماد اور اس دہشت گرد تنظیم کے سابق ترجمان سلیمان ابوغیث پر امریکیوں کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔

اڑتالیس سالہ سلیمان ابوغیث سابق کویتی امام ہیں۔وہ القاعدہ کے پہلے نمایاں عہدے دار ہیں جن کو امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو طیارہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ماخوذ کیا گیا ہے۔انھوں نے نائن الیون حملوں کے فوری بعد اسامہ بن لادن سے افغانستان میں ایک غار میں ملاقات کی تھی اور ان سے اس حوالے سے گفتگو کی تھی۔

وہ القاعدہ کے ترجمان کی حیثیت سے ویڈیوز جاری کیا کرتے تھے جن میں وہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔انھوں نے اکتوبر 2001ء میں جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا تھا:''اب طیاروں کا طوفان تھمے گا نہیں''۔

ان کے خلاف عدالت میں تین ہفتے تک ٹرائل جاری رہا ہے۔اس دوران جیوری کو 12 ستمبر 2001ء کو فلمائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی تھی جس میں سلیمان اپنے خسر اسامہ بن لادن کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ القاعدہ کے دو اور لیڈر بھی ہیں۔ان کے خلاف اب 8 ستمبر کو مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ان پر عاید کردہ فردجرم کے تحت انھیں عمرقید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

سوموار کو مقدمے کی سماعت کے دوران امریکا کے اسسٹینٹ اٹارنی جان کرونن نے اپنے دلیل سمیٹتے ہوئے نائن الیون کے بعد ابوغیث کے القاعدہ کے ترجمان کے طور پر کردار پر روشنی ڈالی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے امریکا پر حملوں کے فوری بعد اسامہ بن لادن سے ملاقات کی تھی۔ان سے مل کر امریکیوں کے قتل کی سازش کی تھی اور دوسروں کو بھی اس سازش میں شریک کرنے کی کوشش کی تھی۔

جیوری نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد القاعدہ کے مقتول سربراہ کے داماد پر تین الزامات میں فرد جرم عاید کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے امریکیوں کو ہلاک کرنے کی سازش کی تھی،القاعدہ کو مدد فراہم کرنے کی سازش کی تھی اور القاعدہ کو مدد مہیا کی تھی۔

سلیمان ابوغیث کو گذشتہ سال اردن سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد انھیں نیویارک میں منتقل کردیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران فعال انداز میں حصہ لیا ہے۔عدالتی کارروائی سننے کے لیے انھیں عربی مترجم کی خدمات مہیا کی گئی تھیں اور وہ اس کے ذریعے گواہوں کے بیانات اور دلائل سنتے رہے تھے۔

انھوں نے جیوری کے روبرو بڑی دھیمی آواز میں گفتگو کی اور اپنے اوپر لگائے گئے اس الزام کی تردید کی کہ وہ القاعدہ کے لیے جنگجو بھرتی کیا کرتے تھے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا کردار مذہبی نوعیت کا تھا۔وہ مبلغ تھے اور مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے کہ وہ جارحین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔جرح کے دوران پراسیکیوٹر مائیکل فرارا نے ان سے سوال کیا تھا:''کیا یہ درست ہے آپ نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اسامہ بن لادن سے شائستہ انداز میں ملاقات کی تھی کہ وہ سیکڑوں امریکیوں کے قاتل ہیں؟''۔

ابو غیث نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ '' میں ان سے اس لیے نہیں ملنے گیا تھا اور انھیں شاباش دینے نہیں گیا تھا کہ انھوں نے سیکڑوں امریکیوں کو قتل کیا ہے بلکہ میں توان سے اس لیے ملنے گیا تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں''۔

امریکی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف جو گواہ پیش کیے گئے،ان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ بھی شامل تھا جس نے امریکا کے لیے فضائی سفر کے دوران ان کا دس گھنٹے تک انٹرویو کیا تھا۔اس کے علاوہ نیویارک کے علاقے بیفلو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پیش کیا گیا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے کئی ماہ قبل انھیں افغانستان میں بولتے ہوئے سنا تھا۔

ابوغیث کے وکیل صفائی اسٹینلے کوہن نے جیوری کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے موکل کے خلاف ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس سے حکومت کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہوکہ وہ امریکا مخالف سازشوں سے آگاہ تھے۔وکیل استغاثہ نے ان کے خلاف نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاورز کی تباہی کی ویڈیو سمیت مختلف ویڈیوز دکھائی تھیں اور وہ ان کو ملزم کے خلاف سب سے بڑا ثبوت قراردے رہے تھے۔اس کے علاوہ جیوری کے روبرو ملزم کے بیان کو ان کے خلاف ایک گواہی کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔