فلوٹیلا زرتلافی: ترکی اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کی تیاری

اسرائیل سے معاہدے کیلیے دستاویزات موصول ہو گئیں، نائب وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے سرکاری طور پر بتایا ہے کہ چار سال قبل غزہ کیلیے امدادی سامان لے جانے والے ترک جہاز فلوٹیلا کو اسرائیل کی طرف سے نقصان پہنچنے کے بدلے میں اسرائیل زرتلافی وصول کرنے کا معاملہ جلد طے ہو جائے گا۔

واضح رہے 2010 میں اسرائیل نے امدادی اشیاء سے بھرے جہاز پر اس وقت حملہ کر دیا تھا جب فلوٹیلا بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا اور اسرائیل کے زیر محاصرہ فلسطینی علاقے غزہ کی طرف رواں دواں تھا۔ حملے میں 9 ترک شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ جس کے بعد ایک سفارتی تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم نے اس بارے میں بتایا ہے کہ ''اس سلسلے میں اسرائیل کی جانب سے باضابطہ معاہدے کیلیے حتمی دستاویزات موصول ہو گئی ہیں۔ '' انہوں نے مزید کہا '' اس حوالے سے اگلے اتوار کو بلدیاتی انتخابات کے مکمل ہوتے ہی ہم اس کام کی تکمیل کے لیے سرگرم ہو جائیں گے، تاکہ معاہدہ حتمی شکل پا جائے۔''

زر تلافی کی ادائیگی کیلیے معاہدے پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان 2013 میں بات چیت شروع ہوئی تھی۔ اسرائیل اس حوالے سے باضابطہ معافی بھی مانگ چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان امکانی معاہدے میں امریکی صدر براک اوباما نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ماہ فروری میں ایک اسرائیلی اخبار نے زرتلافی سے متعلق رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیل 20 ملین ڈالر ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ رقم جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء اور زخمی ہونے والے ترک باشندوں کو دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں