.

ترک عدالت کا ٹویٹر پر پابندی ختم کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک عدالت نے ملک کی ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی کو سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر کو صرف پانچ روز کے لیے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

ترک حکومت نے ٹویٹر کو چند روز قبل بند کردیا تھا اور ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹویٹر کو قابل اعتراض مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن اس پابندی کے باوجود صارفین اس کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

وکلاء اور حزب اختلاف کی ایک جماعت کے ارکان نے عدالت سے ٹویٹَر پر پابندی ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ پابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

ترکی کو ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے امریکا اور فرانس سمیت عالمی برادری کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھوں نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت سے اس پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ایردوآن حکومت کی جانب سے ٹویٹر پر پابندی کے بعد ترکی سے پہلے سے زیادہ ٹویٹس کی جارہی ہیں۔


ترک صدر عبداللہ گل نے حکومت کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر پابندی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت بہت جلد اس پابندی کا خاتمہ کردے گی۔انھوں نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''قانونی طور پر انٹرنیٹ اور ٹویٹر ایسے پلیٹ فارمز کو بند کرنا ممکن نہیں ہے''۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے اس سائٹ پر پابندی عاید کی ہے۔انھوں نے اپنے ،اپنے اتحادیوں اور بیٹوں کے خلاف کرپشن اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی عاید کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ ان سائٹس پر حکومت کے خلاف نئی نئی کہانیاں منظرعام پر آرہی تھیں۔