.

''صدراوباما سعودیوں کے درشت لہجے کے لیے تیار رہیں''

سعودی عرب ایران ،شام اور مصر سے متعلق اقدامات نہ ہونے پر امریکا سے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما جمعرات کو تاریخی دورے پر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں مگر ان کا یہ دورہ کوئی خوش گوار ماحول میں نہیں ہورہا ہے بلکہ انھیں سعودیوں کے درشت لہجے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا کے جہان دیدہ سابق سفارت کار ڈینس راس نے صدر اوباما کے مجوزہ دورۂ سعودی عرب کے تناظر میں تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ ''سعودی امریکا کی جانب سے ایران،شام اور مصر میں جاری بحرانوں کے حوالے سے کوئی معنی خیز اور ٹھوس اقدام نہ ہونے پر نالاں ہیں''۔

راس کا یہ مضمون امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں سوموار کو شائع ہوا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں:''بنیادی طور پر سعودی سمجھوتے ہیں کہ امریکا کے دوست (ممالک) اور مفادات خطرے میں ہیں جبکہ امریکا کا ردعمل اختلافات سے تطابق کا رہا ہے''۔

ان کے بہ قول:''سعودی شاذونادر ہی امریکا کے بارے میں شکوک کا شکار ہوئے ہیں لیکن وہ ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو خطے میں بالادستی حاصل کرنے کا ایک قدم سمجھتے ہیں جبکہ امریکا ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر معاملہ کاری کررہا ہے اور سعودی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس طرح اسے مزید گڑ بڑ والا کردار ادا کرتے رہنے کی اجازت دی جارہی ہے''۔

راس نے تحریر کیا:''سعودی قیادت یہ بھی سمجھتی ہے کہ ایرانی اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو وقت گزاری کے لیے استعمال کررہے ہیں اور امریکا ایران کے ساتھ ڈیل کے لیے بے چین ہے اور وہ تنازعے سے گریز کرنا چاہتا ہے،اس سے یہ بھِی معلوم دیتا ہے کہ وہ خطے میں ایرانیوں کا مقابلہ کرنے سے انکاری ہے یا وہ ایسا کرنے والے امریکی دوستوں کی حمایت کرنے کو بھی تیار نہیں''۔

سعودی عرب کو مصر میں جاری بحران کے حوالے سے امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی تشویش ہے۔مصر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے مگر امریکا مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے اخوان مخالف اقدامات کا ناقد ہے اور اس نے گذشتہ سال جولائی میں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ان کے حامیوں کے خلاف مصری فورسز کے کریک ڈاؤن کی حمایت نہیں کی تھی۔

سعودی عرب شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف امریکا کی جانب سے کوئی اقدام نہ ہونے پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کرچکا ہے اور اس نے اسی بنا پر گذشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوسال کی مدت کے لیے عارضی نشست بھی ٹھکرا دی تھی۔تب سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف نے کہا تھا کہ مملکت امریکا کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں ''جوہری تبدیلی''پر غور کررہی ہے۔

نومبر میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔شاہ عبداللہ نے ان سے صدر اوباما کی اعلان کردہ''سرخ لکیر'' کا موقع آجانے کے باوجود امریکا کی جانب سے شام مخالف کوئی اقدام نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

راس کا کہنا ہے کہ ''دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے باوجود سعودی عرب امریکا کا ساتھ نہیں چھوڑے گا کیونکہ امریکا ہی سعودی مملکت کو بیرونی خطرات سے تحفظ مہیا کرسکتا ہے۔تاہم سعودیوں کی ناراضی انھیں ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کرسکتی ہے جو امریکی مفادات اور خود ان کے لیے بھی تباہ کن ہوسکتی ہیں''۔