.

529 کو سزائے موت، اقوام متحدہ، امریکا و برطانیہ کی مذمت

سیاسی جماعت سے وابستگی یا احتجاج کی سزا موت نہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے حامی پانچ سو انتیس سیاسی کارکنوں کو دو دن کے عدالتی ٹرائل کے بعد سنائی جانے والی سزائے موت پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے ساتھ ساتھ امریکا، برطانیہ اور دیگر جمہوری ملکوں کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے اس عدالتی فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ''حیران کن حد تک بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت دینا حالیہ انسانی تاریخ میں انوکھا واقعہ ہے، قانونی بے قاعدگیوں کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت دینا بین الاقوامی قانون شکنی کے مترادف ہے۔''

ترجمان کے مطابق سزائے موت کا فیصلہ صرف جائز بنیادوں پر اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی سنایا جا سکتا ہے ، اس لیے 529 افراد کو صرف دو دن کی سماعت کے بعد سزا دیتے ہوئے انتہائی ابتدائی نوعیت کے قانونی تقاضے بھی پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ''

529 سزا پانے والوں کے وکلاء نے بھی شکایت کی ہے کہ انہیں صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے۔ واضح رہے اس مقدمے میں جج ہر ملزم کو بلا سکا اور نہ ہی اس کے حقیقی ملزم ہونے کی تصدیق کر سکا۔ حتی کہ پچاس افراد کے حراست میں ہونے کے باوجود انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے مزید کہا '' انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق سزائے موت صرف قتل جیسے سنگین جرائم میں ہی دی جا سکتی ہے،اس لیے ایک سیاسی جماعت کا ممبر ہونے یا احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے کی سزا موت نہیں ہو سکتی ہے۔''