.

ترکی: ٹویٹر پر پابندی کے بعد یو ٹیوب بھی بلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پابندی کے بعد اب ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب تک رسائی بھی بلاک کی جارہی ہے۔

ترکی میں یوٹیوب پر یہ پابندی وزیرخارجہ ،انٹیلی جنس چیف ،اعلیٰ فوجی عہدے دار اور وزارت خارجہ کے حکام کی ایک مبینہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد لگائی جارہی ہے۔یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں یہ اعلیٰ عہدے دار شام میں فوجی مداخلت کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔

اس سے پہلے ٹویٹر کے ذریعے ترک حکومت کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے سے متعلق مختلف کہانیاں اور ٹیپس سامنے آنے کے بعد وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے اس مائیکرو بلاگنگ سائٹ کو بند کردیا تھا۔

تاہم گذشتہ روز ہی ترکی کی ایک عدالت نے ملک کی ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی کو سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر کو صرف پانچ روز کے لیے بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی نے ٹویٹر کو قابل اعتراض مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور اس پر اس کو بند کردیا گیا تھا لیکن اس پابندی کے باوجود صارفین اس کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

وکلاء اور حزب اختلاف کی ایک جماعت کے ارکان نے عدالت سے ٹویٹَر پر پابندی ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ پابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ترکی کو پہلے ہی ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے امریکا اور فرانس سمیت عالمی برادری کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور انھوں نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت سے اس پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔اب یوٹیوب پر پابندی کے بعد ایردوآن حکومت پر دباؤ بڑے گا۔

ترک صدر عبداللہ گل نے حکومت کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر پابندی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت بہت جلد اس پابندی کا خاتمہ کردے گی۔انھوں نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''قانونی طور پر انٹرنیٹ اور ٹویٹر ایسے پلیٹ فارمز کو بند کرنا ممکن نہیں ہے''۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے ،اپنے اتحادیوں اور بیٹوں کے خلاف کرپشن اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد ٹویٹر، یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی عاید کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ ان سائٹس پر حکومت کے خلاف نئی نئی کہانیاں منظرعام پر آرہی تھیں۔