.

صدارت کے لئے السیسی کو سلفی حمایت، اخوان کا انتباہ

تمرد تحریک اور حمدین الصباحی نے بھی عبدالفتاح کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اور مستعفی وزیر دفاع کی جانب سے مُلک کے پیش آئند صدارتی انتخابات میں باضابطہ طور پر حصہ لینے کے اعلان پر ملک کے سیاسی حلقوں میں ملاجلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے فیلڈ مارشل السیسی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک مزید عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا جبکہ سلفی مسلک کی نمائندہ سیاسی جماعت "النور" نے السیسی کی حمایت کی ہے اور متوقع صدارتی امیدوار حمدین الصباحی نے بھی فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلفی مسلک کی نمائندہ "حزب النور" کے سیکرٹری جنرل جلال مرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلڈ مارشل بھی مصر کے ایک 'شریف' اور 'باعزت' شہری ہیں۔ ان کی جانب سے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شمولیت کا فیصلہ ان کا حق ہے۔ موجودہ مشکل حالات میں فیلڈ مارشل کا صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ برمحل اور وقت کا تقاضا ہے"۔

سلفی سیاسی رہ نما نے مزید کہا کہ ملک جس نازک دور سے گذر رہا ہے اس میں ہمیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ چلنا ہو گا۔ مصر کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریہ مصر اپنے علاقائی اور عالمی کردار کو دوبارہ حاصل کر سکے اور اس کا کھویا ہوا وقار دوبارہ مل سکے۔

جون 2013ء کے بعد سامنے آنے والی تمرد [بغاوت] تحریک نے بھی فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کی حمایت کی ہے۔ "تمرد" تحریک کے بیان کے مطابق: "فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کی حمایت فرد واحد کی نہیں بلکہ قوم کے ایک بڑے اور نمائندہ طبقے کی حمایت ہے۔ انہیں قوم کا ایک قابل لحاظ طبقہ ملک کا اگلا صدر دیکھنا چاہتا ہے۔ ہم مرحوم صدر جمال عبدالناصر کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ"ہماری اس درماندہ قوم سے ایسے گمنام ہیرو نکلیں گے، جو آزادی پر یقین رکھیں گے، عزت کو تقدس دیں گے اور انسانی عزت وقار کا احترام کریں گے"۔

فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کی جانب سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے باضابطہ اعلان پر اخوان المسلمون نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ لندن میں مقیم اخوان المسلمون کے رہ نما ابراہیم منیر نے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل السیسی کے صدر بننے سے مصر مزید عدم استحکام سے دوچار ہو گا"۔

ملک کے ایک نامور سیاست دان اور سابقہ شکست خوردہ صدارتی امیدوار حمدین الصباحی نے فیلڈ مارشل کے صدر مملکت کے انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

اپنے ایک "ٹیوٹر" پیغام میں الصباحی کا کہنا ہے کہ "میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ امید ہے کہ نئی حکومت ملک میں شفاف، آزدانہ اور غیر جانب دارانہ صدارتی انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی"۔

الدستور پارٹی کے ترجمان خالد داؤد نے بھی جنرل السیسی کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی عہدہ چھوڑنے کے بعد فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے لیے صدر مملکت کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ آئین اور قانون کے دائرہ کار کے اندر ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے بھی فیلڈ مارشل کے صدارتی انتخابات لڑنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح" نے بھی عبدالفتاح السیسی کی حمایت کی ہے۔ الفتح کے مرکزی رہنما جبریل الرجوب کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل السیسی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے مصر کی عظمت رفتہ کی بحالی میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے بدھ کی شام فوجی عہدہ چھوڑتے ہوئے پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے اس اعلان کے بعد مصر ایک مرتبہ پھر سابقہ فوجی آمریت کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے۔