یوکرینی سرحد کے نزدیک قریباً ایک لاکھ روسی فوجیوں کی آمد

سرحدی علاقے میں موجود روسی فوجیوں کی تعداد کہیں کم ہے:امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے ایک اعلیٰ دفاعی عہدے دار کا کہنا ہے کہ روس کے قریباً ایک لاکھ فوجی ان کی سرحد کے نزدیک پہنچ گئے ہیں لیکن امریکا کے فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ روسی فوجی یوکرینی سرحد کے نزدیک پہنچے ضرور ہیں لیکن ان کی تعداد کہیں کم ہے۔

یوکرین کی قومی سلامتی کونسل کے چئیرمین آندریے پاروبیے نے جمعرات کو کیف سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''قریباً ایک لاکھ فوجی یوکرین کی سرحد کے نزدیک تعینات ہوچکے ہیں اور وہ خارکیف دونتسک کی جانب مورچہ بند ہورہے ہیں''۔

قبل ازیں روسی فوجی گذشتہ سوموار کو کریمیا کے ساحلی شہر فیودوسیا میں واقع یوکرین کے ایک بحری اڈے میں زبردستی داخل ہوگئے تھے۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے ماسکو پر امریکی پابندیوں میں توسیع کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ روس کے خلاف یوکرین میں اس کے اقدامات کے خلاف مزید پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ''روس کے خلاف قدغنیں اس کی حکومت کے انتخاب کے نتیجے میں عاید کی گئی ہیں کیونکہ اس کے اس انتخاب کو عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے''۔

واضح رہے کہ کریمیا میں 17 مارچ کو منعقدہ ریفرینڈم میں پچانوے فی صد رائے دہندگان نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے بعد کریمیا کی قیادت اور روس کے درمیان ایک معاہدے طے پایا تھا۔اس کے تحت کریمیا کا روس کے ساتھ الحاق ہو گیا تھا۔روسی پارلیمان اور صدر ولادی میر پوتین نے اس معاہدے کی تصدیق کردی تھی اور کریمیا میں اپنی فوج داخل کردی تھی۔

اس کے ردعمل میں امریکا اور یورپی یونین نے روس اور کریمیا کی قیادت کے خلاف مختلف پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان کے تحت کریمیا اور روس کے بعض عہدے داروں کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں اور ان کے امریکا اور یورپی ممالک میں داخلے پر سفری پابندیاں عاید ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں