.

امریکی صدراوباما کی ریاض آمد، شاہ عبداللہ سے ملاقات

شام، مصر کی صورت حال، ایران کی سرگرمیوں اور خلیج کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر براک اوباما سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جمعہ کو دارالحکومت ریاض پہنچ گئے ہیں۔وہ اپنی آمد کے فوری بعد سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے عشائیے پر ملاقات کررہے ہیں جس میں وہ شام میں جاری خانہ جنگی ،مصر کی صورت حال، ایران کی سرگرمیوں اور خلیج عرب کی سکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

امریکی صدر شاہ عبداللہ سے بات چیت میں انھیں یہ باور کرانے والے تھے کہ امریکا عراق اور افغانستان سے فوجی انخلاء کے باوجود خلیج عرب کی سکیورٹی کی ذمے داریوں سے دستبردار نہیں ہوا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے باوجود سعودی عرب کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جاِئے گا۔

صدر اوباما کی شاہ عبداللہ سے گذشتہ چھے سال میں یہ تیسری سرکاری ملاقات ہے۔ان کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈز نے ان کے سرکاری طیارے ائیرفورس ون میں اپنے ساتھ محو سفر صحافیوں کو بتایا کہ اوباما شاہ عبداللہ سے ملاقات میں خلیج کی سکیورٹی ،مشرق وسطیٰ میں امن ،شام ،ایران اور مصر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

رہوڈز کے بہ قول اوباما شامی حزب اختلاف کی فورسز کے لیے کوئی خاص اعلان کرنے والے نہیں ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب مل کر شامی باغیوں کو مزید امداد مہیا کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کی وجہ سے اب تعلقات میں بہتری آئی ہے کیونکہ ہماری شام پالیسی کے بارے میں اختلافات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی لیکن اب ہم سات ماہ قبل کے مقابلے میں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔

بن رہوڈز نے مزید بتایا کہ ''صدر اوباما شاہ عبداللہ کو ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بارے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ ان مذاکرات کا مطلب ایران کی جوہری اور دوسری سرگرمیوں کے بارے میں امریکی تشویش میں کمی نہیں ہے بلکہ امریکا کو ایران کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کی حمایت اور یمن اور خلیج کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے سرگرمیوں پر برابر تشویش لاحق ہے اور ہم جوہری مذاکرات میں ان ایشوز کے حوالے سے کوئی بات نہیں کررہے ہیں''۔

امریکی صدر ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات اور شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے اوباما انتظامیہ کی پالیسی پر دوطرفہ تعلقات میں سردمہری پائی جارہی ہے۔