.

باسیج ملیشیا کی طرز پر شام میں نیشنل ڈیفنس فورس تیار

تہران کا کردار دمشق کی مشاورت تک محدود ہے: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سیکرٹری بریگیڈیئر جنرل غلام علی رشید نے کہا ہے کہ شام میں "نیشنل ڈیفنس فورس" القدس فورس کی ہدایات کے تحت تشکیل دی گئی ہے تاکہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بر سر جنگ باغیوں کو شکست دینے میں دمشق کو مشاورت فراہم کی جا سکے۔

خیال رہے کہ شام میں "نیشنل ڈیفنس فورس" سے غیر ملکی اُجرتی قاتل مراد لیے جاتے ہیں جو شام میں اسد رجیم کی حمایت میں لڑ رہے ہیں۔ ان غیر ملکی جنگجوؤں پر مشتمل "ڈیفنس فورس" کی کمان بشارالاسد کے کزن ہلال الاسد کے پاس تھی جسے گذشتہ اتوار کو اللاذقیہ میں باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔

ایران کے ایک عسکری عہدیدار نے جنوب مغربی ایران کے "دزفول" شہر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "شام میں القدس بریگیڈ کی ہدایت پر ایران کی نیم عسکری ملیشیا باسیج فورس کی طرز پر "نیشنل ڈیفنس فورس" کی تشکیل عمل میں لائی جا چکی ہے"۔ واضح رہے کہ "القدس فورس" ایران کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب کا بیرون ملک سرگرم عسکری ونگ سمجھا جاتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل غلام علی رشید نے شام میں ایرانی جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دمشق میں ایرانیوں کی خدمات صرف اسد رجیم کی مشاورت تک محدود ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "شام میں ہمارے جنگجو نہیں لڑ رہے ہیں، لیکن کچھ فوجی عہدیدار وہاں ضرور موجود ہیں جو مشاورتی عمل میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہاں پر "باسیج فورس" کی طرز پر القدس فورس کی ہدایت پر نیشنل ڈیفنس فورس تشکیل دی جا چکی ہے۔

خیال رہے کہ شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ہاتھوں جنگی جرائم کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات میں مبینہ طور پر ایران کی باسیج فورس، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور بشار الاسد نواز کئی دوسرے گروپ بھی ملوث ہیں۔

اُنہوں نے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مُمکنہ خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو ایران لبنانی حزب اللہ اور عراق کی شیعہ حکومت کو بچانے کی کوشش کرے گا۔

جنرل رشید کا کہنا تھا کہ شامی حکومت میں کچھ کمزوریاں ہیں، جو موجودہ حکمراں جماعت بعث پارٹی کی وجہ سے ہیں لیکن میرے خیال میں بشار الاسد کو تحریک مزاحمت کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج کے پچاس ہزار اہلکاروں نے بغاوت کے بعد فرار اختیار کیا لیکن باغیوں کا دعویٰ ہے کہ فوج سے علاحدگی اختیار کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔