.

قطر 23 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدے گا

بیس اسلحہ ساز کمپنیوں سے معاہدات مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے اپنی دفاعی طاقت بڑھانے کیلیے 23 ارب ڈالر کی مالیت سے ہیلی کاپٹر ، گائیڈڈ میزائل، ٹینکرز اور دیگر اسلحہ خریدنے کیلیے معاہدے کر لیے ہیں۔ دنیا میں قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم ملک نے اس سلسلے میں امریکی کمپنیوں سمیت 20 بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدات کیے ہیں۔

قطر کے فوجی ترجمان کے مطابق صرف امریکی کمپنیوں سے کیے گئے ان معاہدات کی مجموعی مالیت سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر ہے، جو ستائیس اعشاریہ پانچ ارب ریال کے برابر ہے۔ ترجمان کے مطابق جن کمپنیوں سے اسلحہ خریداری کے بڑے معاہدات کیے گئے ہیں ان میں لاک ہیڈ مارٹن اور رے تھیان بھی شامل ہیں۔

واضح رہے قطر اور دوسرے خلیجی ممالک ایران کے مقابلے میں اپنا دفاع بہتر بنانے کیلیے ان دنوں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی مسلح افواج کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

بوئنگ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ قطر نے 24 اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر اے ایچ 64 ای قسم کے ہوں گے جو جنگی مقاصد پورے کریں گے، علاوہ ازیں تین اواکس طیاروں کی خرید داری بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔ ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مجموعی قیمت آٹھ اعشاریہ نو ارب ریال ہے۔

پیرس میں قطر نے این ایچ 90 قسم کے فوجی ہیلی کاپٹر خرید نے سے بھی اتفاق کیا ہے ، ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد 22 ہوگی۔ جبکہ قطر کیلیے خریدی جانے والی ائیربسوں کی مالیت دو ارب یورو ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قطر نے رے تھیان نامی کمپنی کا بنایا ہوا پٹریاٹ میزائل سسٹم بھی خریدے گا جو لاک ہیڈ کمپنی کے تیار کردہ پی اے سی 3 میزائلوں سے لیس ہوں گے۔ رے تھیان امکانی طور پر قطر کا 2014 کے پہلے وسط میں پٹریاٹ سسٹم فراہم کر دے گی۔

اس سلسلے میں پینٹاگان نے بھی قطر کو نو اعشاریہ نو ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائلوں کے علاوہ ریڈارز کی فراہمی نومبر 2012 میں منظوری دی تھی۔ تاہم امریکی ترجمان نے فوری طور پر اس پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔