.

چین سے اسلحہ کی ڈیل کرنے والا ترک افسر برطرف

ترکی چین سے دفاعی میزائل نظام لینے کیلیے 2013 سے کوشاں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے وزارت دفاع میں بطور انڈر سیکرٹری دفاعی صنعت کے معاملات کی نگرانی کرنے والے افسر مراد بیار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا ہے۔ وزارت دفاع نے اس برطرفی کی فی الحال وجوہات نہیں بتائی ہیں۔

مراد بیار ترکی کی طرف سے چین سے دفاعی میزائل سسٹم خریدنے کیلیے ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار کے حامل تھے۔ تاہم ترکی اور چین کے درمیان اس بات چیت پر ترکی کے نیٹو کے دوست ممالک نے تشویش ظاہر کی کہ ترکی ان کے ایک مخالف ملک سے ایف ڈی 2000 میزائل ڈیفنس سسٹم لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

البتہ ترکی کی طرف سے کہا گیا کہ چین مقابلتاً بہتر شرائط کے ساتھ پیشکش کر رہا ہے اور ترکی میں مشترکہ پیداوار پر بھی آمادگی ظاہر کرسکتا ہے اس لیے ترکی نے اس سے رجوع کیا ہے۔ ترکی کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کا چین کی سی پی ایم آئی ای سی نامی کمپنی نے پہلی مرتبہ یہ ظاہر کیا ہے کہ ترکی کیساتھ تین ارب چالیس کروڑ ڈالر مالیت کا ایک سودا تقریبا ہو گیا ہے۔''

نیٹو ممالک کے مطابق ترکی کی یہ اہم ڈیل 2013 اس وقت آگے بڑھی تھی جب چین کی اس کمپنی پر اقتصادی پابندیاں عاید تھیں۔ یہ کمپنی 2003 سے پابندیوں کی زد میں رہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی ایران کو اسلحہ فروخت کرتی رہی ہے۔

نیٹو ممالک کی طرف سے دباو کے بعد ترکی نے وزارت دفاع کے انڈر سیکرٹری کو برطرف کیا ہے تاہم سرکاری طور پر اس فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں۔