.

برطانوی معلمہ کے قتل کے جرم میں قطری کو سزائے موت

واردات میں ملوث قاتل کے ساتھی ایک اور قطری کو تین سال قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی ایک عدالت نے ایک مقامی شہری کو برطانوی اسکول ٹیچر کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا ہے اور اس جرم میں شریک اس کے ایک ساتھی کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ کے مطابق چوبیس سالہ مقتولہ لوراں پیٹرسن قطر میں ایک برطانوی اسکول میں پرائمری ٹیچر تھی۔وہ دارالحکومت دوحہ میں ایک نائٹ کلب میں دو قطریوں کے ساتھ آخری مرتبہ دیکھی گئی تھی اور پھر اچانک لاپتا ہوگئی تھی۔

برطانوی روزنامے دی ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ لوراں پر جنسی حملہ کیا گیا تھا اور اس کی عصمت ریزی کے بعد اس کو چھرا گھونپ کر قتل کردیا گیا تھا۔پھر قاتل نے اس کی لاش کو شہری آبادی سے دور لے جاکر بے دردی سے جلا دیا تھا۔

عدالت میں قتل کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایک فورینزک ماہر نے اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تھا اور وقرا کے علاقے کے نزدیک واقع ایک فارم میں ایک گڑھے میں مقتولہ کو جلائے جانے کے نشانات موجود تھے۔

لندن میں برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں لوراں پیٹرسن کی والدہ نے کہا ہے کہ مجرم بدر ہاشم خمیس عبداللہ الجابر کے ساتھ انصاف کردیا گیا ہے اور اس کو عدالت نے سزائے موت سنادی ہے۔

لیکن مقتولہ کی والدہ علیسن پیٹرسن مجرم کے ساتھی محمد عبداللہ حسن عبدالعزیز کو سنائی گئی قید کی سزا سے مطمئن نہیں ہوئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کو مناسب سزا نہیں دی گئی کیونکہ اس نے اس گھناؤنے جرم کے وقوع پذیر ہونے کے وقت ان کی بیٹی کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور نہ پولیس کو قتل کی اطلاع دی تھی بلکہ اس کو چھپایا تھا اور مجرم کی معاونت کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ قاتل عبداللہ الجابر نے لوراں کی لاش کو بڑے وحشیانہ انداز میں ٹھکانے لگایا تھا اور تین سال گزر جانے کے باوجود بھی اس گھناؤنے واقعہ کی یاد نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت قطر میں ہزاروں غیرملکی شہری مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد مغربی باشندوں کی ہے۔ان میں زیادہ تر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے پلانٹس یا پھر 2022ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے لیے کھیل کے میدانوں اور اسٹیڈیمز کی تعمیر کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔قطر میں ان غیر ملکیوں سے متعلق جرائم کی خبریں آئے دن عالمی میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔

جمعرات کو قطر کی ایک عدالت نے لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی جوڑے کو اپنی آٹھ سالہ متبنیٰ بیٹی کو بھوک سے مارنے کے جرم میں تین،تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔مجرم میتھیو اور گریس ہوانگ پر اس بچی کے جسمانی اعضاء بیچنے کا الزام عاید کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔عدالت نے اس جوڑے کو پندرہ ،پندرہ ہزار ریال (فی کس) جرمانہ بھی عاید کیا ہے اور انھیں قید کی مدت پوری ہونے کے بعد قطر سے بے دخل کردیا جائے گا۔