.

شام سے متعلق پالیسی پر کانگریس اوباما پر برس پڑی

باغیوں کی مسلح امداد کے وعدے کہاں گئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ارکان کانگریس نے صدر براک اوباما کی تین سال سے شام کے بارے اختیار کردہ پالیسی کو "گمراہ کن" قرار دیتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

"العربیہ" ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی کے ارکان نے حکومت کی شام بارے پالیسی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں تین سال سے جاری لڑائی میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی ملین لوگ بے گھر ہیں جو لبنان، عراق، اردن اور ایرن میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ صدر اوباما کی جانب شامی باغیوں کی غیر مُہلک ہتھیاروں کے ذریعے مدد کی کئی بار یقین دہانیاں کرائی جاتی رہی ہیں، لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ اوباما انتظامیہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے میں کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کر سکی ہے؟ شام میں امریکی عدم مداخلت کے نتیجے میں انقلاب کی تحریک ترقی معکوس کی جانب گامزن ہے۔

کانگریس کی خارجہ کمیٹی نے اوباما انتظامیہ سے اس امر کی وضاحت طلب کی ہے کہ وہ شام کے بارے میں اختیار کردہ حکمت عملی کے بارے میں بتائیں کہ شامی خانہ جنگی کی روک تھام اور شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟

خیال رہے کہ امریکی حکومت اور کانگریس کے درمیان ماضی میں بھی شام کی جنگ کے معاملے میں اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس شام میں سرکاری فوج کی جانب سے دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے مقام پر مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکی خارجہ کمیٹی نے شام پر حملے کے حق میں رائے دی تھی۔ ان حملوں میں کم سے کم 1400 عام شہری مارے گئے تھے۔ صدر براک اوباما نے بھی زبانی طور پر شام پر حملہ اور باغیوں کی ہتھیاروں سے مدد کی یقین دہانیاں کرائی تھیں لیکن بعد میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی ڈیل پر بشار الاسد کو "سبق سکھانے" کے اعلان واپس لے لیے گئے تھے۔

اس باب میں کانگریس میں بھی دو رائے پائی جاتی رہی ہیں۔ بعض ارکان کا خیال ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی بے معنی ہے۔ امریکا کو پہلے فوجی کارروائی کر کے بشار الاسد کی حکومت ختم کرنا چاہیے لیکن دوسرے گروپ کا کہنا ہے امریکا نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے معاملے میں روس کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے، یہی بڑی کامیابی ہے۔