.

کابل:طالبان کا غیر ملکیوں کے زیراستعمال گیسٹ ہاؤس پر حملہ

گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر خودکش دھماکے کے بعد متعدد حملہ آوراندر گھس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان کے ایک گروپ نے دارالحکومت کابل میں غیر ملکیوں کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا ہے جس کے بعد ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ خونریز جھڑپ ہوئی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ محمد ظاہر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''گیسٹ ہاؤس میں تین امریکی شہری ،پیرو کا ایک شہری اور ایک ملائشین موجود ہے''۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے عمارت کے اندر سے دس غیر ملکیوں کو نکالتے ہوئے دیکھا ہے۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستنکزئی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو گیسٹ ہاؤس کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد متعدد خودکش بمبار عمارت کے اندر گھس گئے''۔

ترجمان کے بہ قول حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔تاہم حملے میں مارے جانے والوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔یہ گیسٹ ہاؤس غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے زیراستعمال ہوتا ہے''۔

طالبان نے جمعہ کے روز اس حملے کے فوری بعد اس کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ہدف غیر ملکیوں کا گیسٹ ہاؤس اور ایک چرچ تھا۔ طالبان جنگجوؤں کے حملے کے بعد ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپ شروع ہوگئی تھی جس کے بعد علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی دستوں کو بھیج دیا گیا۔آخری اطلاعات ملنے تک طالبان جنگجوؤں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل کابل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود طالبان جنگجوؤں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے زیر استعمال گیسٹ ہاوسز (مہمان خانوں) اور ہوٹلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ منگل کو کابل میں الیکشن کمیشن کے ایک دفتر پر خودکش بم حملہ کیا تھا۔گذشتہ ہفتے دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں واقع قلعہ نما ہوٹل پر طالبان نے بڑی دلیری اور بے خوفی سے حملہ کیا تھا جس میں اے ایف پی سے وابستہ ایک صحافی اور ایک انتخابی مبصر سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔