روسی صدر کی کھلے سمندر میں ڈولفن کے ہمراہ پیراکی!

کریمیا کے انضمام کے بعد ڈولفن پروگرام، بندرگاہ بھی ماسکو کے قبضے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا کے ماسکو کے ساتھ متنازعہ الحاق کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے یوکرینی فوجی ڈولفن پروگرام اور گرم پانی کی بندرگاہ پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن ٹائمز" نے ایک تصویر کے ساتھ یہ خبر دی ہے جس میں روسی صدر کو کھلے سمندر میں ڈلفن مچھلیوں کے ہمراہ بے خوف سے پیراکی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اخبار نے اس خبر کو مزاحیہ سرخی دی ہے اور لکھا ہے کہ "اب ڈولفن ولاد میر؟" روس نے یوکرین کی فوجی ڈولفن پر بھی قبضہ کر لیا"۔

ادھر امریکی ٹی وی "سی این این" نے ایک روسی نیوز ایجنسی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ماسکو نے کریمیا کے سیفاسٹوپول شہر میں فوجی ڈولفن پروگرام پر قبضہ کرنے کے بعد اسے روسی بحریہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈولفن کی ذہانت کو مختلف ممالک زیر سمندر اپنے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ڈولفن اپنی فوج کو سمندر میں مختلف خطرات کے بارے میں آگاہ کرنے بالخصوص پانی میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

قبل ازیں یوکرین نے دعویٰ کیا تھا کہ کریمیا میں ڈولفن فوجی پروگرام ابھی تک اس کے کنٹرول میں ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ یوکرین نے کریمیا میں ملٹری ڈولفن پروگرام سنہ 1960ء میں اس تشکیل دیا تھا جب روس اور یوکرین سوویت یونین کا حصہ تھے۔ سوویت یونین سے آزادی کے بعد یہ پروگرام یوکرین ہی کے کنٹرول میں رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں فوجی مقاصد کے لیے ڈولفن مچھلیوں کو تربیت فراہم کرنے کا ایک پروگرام موجود ہے جو بحر اسود میں امریکا کے آبی وسائل کی حفاظت اور کسی خطرے کی نشاندہی میں نیوی کو مدد فراہم کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں