سابق نارویجئِن وزیراعظم اسٹولٹنبرگ نیٹو کے سربراہ نامزد

مذاکرات پہ یقین رکھنے والے مدبر سیاست دان یکم اکتوبر کو عہدہ سنبھالیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ناروے کے سابق وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے ایلچی جینز اسٹولٹنبرگ کو معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا نیا سیکریٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے۔

وہ یکم اکتوبر کو نیٹو کے موجودہ سربراہ آندرس فوگ راسموسین کی جگہ عہدہ سنبھالیں گے۔انھیں ایسے وقت میں نیٹو کی سربراہی سونپی جارہی ہے جب مغرب کا روس کے ساتھ کریمیا کے معاملے پر تنازعہ چل رہا ہے اور یوکرین کے اس علاقے کے روس کے ساتھ الحاق اور وہاں روسی فوجوں کی موجودگی پر امریکا کی قیادت میں نیٹو اور صدر ولادی میر پوتین کے روس کے درمیان کشیدگی زوروں پر ہے۔

انھوں نے حال ہی میں ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کی جانب سے کریمیا کو ضم کرنے کا اقدام برقرار نہیں رہ سکتا۔ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے اپنی سرحدوں میں تبدیلی کے لیے مسلح افواج کا استعمال ناقابل قبول ہے اور یوکرین میں جاری بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم ایسی دنیا میں نہیں رہ رہے ہیں جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو اور صرف طاقتور ہی زندہ رہ سکے۔روس کا اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور طاقت کی پالیسی ہی کی ایک قسم ہے مگر یہ ماضی کے دور سے تعلق رکھتی ہے''۔

اسٹولٹن برگ کو ایک جہاں دیدہ مدبر سیاست دان قراردیا جاتا ہے جو تنازعات کے حل کے لیے بات چیت میں یقین رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنا بچپن بلغراد میں گزارا تھا۔وہ بائیس سال تک ناروے کی پارلیمان کے رکن اور 2005ء سے 2013ء تک اپنی جماعت لیبر پارٹی کی قیادت میں مخلوط حکومت کے وزیراعظم رہے تھے۔

انھوں نے طالب علمی کے زمانے ہی میں سیاست میں قدم رکھ دیا تھا۔وہ اس بات کا برملا اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ 1970ء کے عشرے میں جنگ مخالف تھے اور انھوں نے ویت نام جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران دارالحکومت اوسلو میں امریکی سفارت خانے پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔

نوجوانی کے زمانے میں تو وہ جنگ مخالف رہے تھے اور ایک وقت میں تو انھوں نے ناروے کی نیٹو کی رکنیت ختم کرنے کی بھی وکالت کی تھی لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے انھوں نے نیٹو کی افغانستان اور لیبیا میں فوجی مہمات کی حمایت کی تھی لیکن اس کے ساتھ ان کی حکومت دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کی بھی حمایت کرتی رہی ہے۔

ان کی حکومت نے ہی افغانستان کے طالبان کو ناروے میں مذاکرات کی میز پر لانے کا اہتمام کیا تھا تا کہ جنگ زدہ افغانستان میں قیام امن کی کوئی راہ تلاش کی جاسکے۔نیٹو کے موجودہ سربراہ آندرس فوگ راسموسین نے اپنے جانشین کے طور پر ان کی نامزدگی کو سراہا ہے اور اسے ایک درست انتخاب قراردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں