.

اسکندریہ میں دو اخوانی کارکنوں کو سزائے موت

سزا مظاہروں کے دوران لڑکے کو چھت سے نیچے گرانے پر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے کالعدم تنظیم اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو ایک کم عمر لڑکے کو مکان کی چھت سے نیچے گرانے کی پاداش میں پھانسی کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ملزام محمود حسن رمضان اور عبداللہ الاحمدی کو پھانسی کی سزا سنانے کے بعد فیصلے کی ایک کاپی مفتی مصر کے پاس بھجوا دی ہے تاکہ ملزمان کی پھانسی کی سزا پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جا سکے۔ عدالت نے واقعے میں ملوث دیگر 61 ملزمان کے کیسز کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری شہر اسکندریہ میں قائم فوجداری عدالت نے مبینہ اخوانی کارکنوں کو یہ سزا پانچ جولائی کو ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کی ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر سنائی ہے۔ اس فوٹیج میں اسکندریہ میں سابق معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی کے خلاف احتجاجی ریلی کے دوران مشتعل افراد کو ایک بلڈنگ میں داخل ہوتے اور اس کی چھت پر چڑھتے دکھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس موقع پر اخوان کے حامیوں اور ساحلی شہر سید جابر کے مقامی باشندوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جس کے بعد مکان کی چھت پر چڑھے کچھ لوگوں نے ایک لڑکے کو پکڑ کر نیچے پھینک دیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

عدالت نے اسے قتل عمد قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث دو مرکزی ملزموں کو سزائے موت سنانے کے بعد جلد از جلد اس پر عمل درآمد کا بھی حکم دیا ہے۔ اس پرتشدد مظاہرے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم سے کم 23 افراد جاں بحق اور200 زخمی ہو گئے تھے۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر اخوان کے خلاف سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جانب اخوان المسلمون نے اس طرح کے مجرمانہ واقعات میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔