.

"ایرانی 'قوت لایموت' والی کیفیت کے لئے تیار رہیں"

اقتصادی پابندیوں سے قوم روزے رکھنے پر مجبور ہو سکتی ہے: سابق وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق وزیر برائے سیکیورٹی امور علی فلاحیان نے ملک کے متنازعہ جوہری پروگرام کی پاداش میں عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے عوام پر گہرے منفی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو عوام کو روزے رکھنا پڑیں گے یا انہیں دن میں صرف ایک مرتبہ کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

فارسی نیوز ویب پورٹل "تسنیم" کے مطابق سابق وزیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جس "معاشی مزاحمت" کی بات کرتے ہیں، اگر ہم ان پابندیوں کا سامنا کرنے میں ناکام رہے اور ان [مغرب] کا دباؤ بڑھتا رہا تو ہم اعلان کر دیں گے کہ ہمیں آپ کی مصنوعات کی ضرورت نہیں"۔

خیال رہے کہ حال ہی میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے "معاشی مزاحمت" کے عنوان سے ایک نیا پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس پروگرام کے تحت تیل کی برآمدات پر انحصار کم کرنے اور عمومی اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عالمی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

اپنے بیان میں سابق وزیر علی فلاحیان نے کہا کہ پابندیوں کا سامنا کرتے کرتے کہیں ہمیں روزے نہ رکھنے پڑ جائیں۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اگر پابندیاں برقرار رہیں تو ہمیں روزے رکھنا پڑیں گے یا دن میں صرف ایک کھانے پر اکتفاء کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی کرنسی کی قدر کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہمیں کوئی ٹھوس حل تلاش کرنا ہو گا تاہم انہوں نے خود سے کوئی حل پیش نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے نتیجے میں یورپ اور امریکا نے ایرانی تیل کی درآمدات و برآمدات اور تہران کے بنکوں کے ساتھ لین دین پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ گو کہ موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی حکومت نے عالمی طاقتوں سے جوہری پروگرام پر ڈیل کرتے ہوئے کسی حد تک پابندیوں میں نرمی بھی کرائی ہے لیکن اقتصادی پابندیوں کے منفی اثرات اب بھی موجود ہیں۔

رواں ماہ ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ موسیٰ ثروتی نے بھی اقتصادی پابندیوں کے منفی اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی پابندیوں کے باعث ایران کی 20 فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں حکومت کی جانب سے بنیادی خدمات بھی حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔