سعودی ولی عہد دوم شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کا حلف وفاداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ارکان، وزراء، مذہبی شخصیات، دانشوروں اور عام شہریوں نے حال ہی میں مقرر شدہ ولی عہد دوم شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز سے اظہار وفاداری کرتے ہوئے ان کی بیعت کرلی ہے اور انھیں نئے منصب پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

حلف برداری کی پُروقار تقریب اتوار کو سعودی دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں منعقد ہوئی ہے جس میں زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس میں شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے حلف لیا اور سعودی ارباب اقتدار وسیاست اور علم ودانش نے ان سے بیعت کے ذریعے اظہار و فاداری کیا۔

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جمعرات کو ایک شاہی فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت شہزادہ مقرن کو موجودہ ولی عہد شہزادہ سلمان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے اور وہ یہ منصب خالی ہونے کی صورت میں سعودی عرب کے آیندہ ولی عہد ہوں گے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے بیان کے مطابق شہزادہ مقرن کرسی خالی ہونے کی صورت میں ملک کے بادشاہ بھی بن سکتے ہیں۔ العربیہ نیوز چینل سے نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ''شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شہزادہ مقرن کو بادشاہ اور ولی عہد کے عہدے خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کا بادشاہ مقرر کردیا ہے''۔

ریاض میں جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شاہی فرمان کو کسی بھی طریقے سے کوئی بھی شخص کسی بھی وجہ یا تشریح کی بنا پر تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔اس میں مزید واضح کیا گیا تھا کہ شہزادہ مقرن اپنے موجودہ منصب نائب وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

شہزادہ مقرن شاہ عبدالعزیز آل سعود کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ اور وہ 1945ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی عمر قریباً ستر سال ہے۔ قبل ازیں وہ مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ 1980ء سے 1999ء تک صوبہ حائل کے گورنر رہے تھے اور بعد میں انھیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم دارالحکومت ریاض میں حاصل کی تھی اور 1964ء میں سعودی عرب کی شاہی فضائیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھوں نے برطانیہ سے ہوابازی (ائیرو ناٹیکس) میں 1968ء میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ 1980ء تک سعودی فضائیہ میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

انھیں گذشتہ سال سعودی عرب کا نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ سعودی عرب کے سراغرساں ادارے کے سربراہ تھے۔ وہ اکتوبر 2005ء سے جولائی 2012ء تک اس منصب پر فائز رہے تھے۔ شاہ عبداللہ نے 20 جولائی 2012ء ان کی جگہ شہزادہ بندر بن سلطان کو انٹیلی جنس چیف مقرر کیا تھا اور شہزادہ مقرن کو اپنا مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کردیا تھا لیکن بعد میں انھیں نائب وزیراعظم کے منصب پر فائز کردیا گیا تھا۔

سعودی نائب وزیراعظم کو روایتی طور پر ولی عہد کا جانشین سمجھا جاتا ہے۔ یوں اگر ولی عہد کا منصب خالی ہوتا ہے تو شہزادہ مقرن ولی عہد اور بادشاہت کی کرسی خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کے بادشاہ بن جائیں گے۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنی علالت کے پیش نظر انھیں غالباً یہ منصب سونپا ہے۔ شاہ عبداللہ کی عمر اس وقت نوے سال سے زیادہ اور ولی عہد شہزادہ سلمان کی عمر اٹھہتر برس ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے سعودی فرمانروا کے نئے شاہی فرمان کو سعودی عرب میں استحکام کی علامت قرار دیا ہے جہاں کسی اتھل پتھل کے بغیر حکمراں اور ولی عہد کی جانشینی کا معاملہ طے کیاجارہا ہے۔واضح رہے کہ خطے میں سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو عرب بہاریہ تحریک کے اثرات سے محفوظ رہے ہیں اور انھیں اپنی داخلی استحکام کی بدولت اب تک کسی انقلابی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں