شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ

جانبین سے فائرنگ کے بعد جنوبی کوریا کے زیرانتظام جزیرے سے لوگوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی علاقے میں سوموار کو فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور جنوبی کوریا نے اپنے پانیوں میں شمالی کوریا سے فائر کیے گئے گولے گرنے کے بعد جوابی فائرنگ کی ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ترجمان نے خبررساں اداروں کو بتایا ہے کہ ''شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے گئے بعض گولے ہمارے علاقے میں گرے ہیں اور ہم نے فائر سے اس کا جواب دیا ہے''۔

فوری طور پر فریقین کی جانب سے کسی خاص ہدف کو نشانہ بنانے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے زیرانتظام جزیرے بائیجینی یونگ کے باسی حفظ ماتقدم کے طور پر محفوظ پناہ گاہوں کی جانب چلے گئے ہیں۔یہ جزیرہ دونوں ممالک کے درمیان آبی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک سرکاری عہدے دار نے جزیرے کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ اس کو فوری طور پر خالی کردیں۔ان کے بہ قول بعض لوگ پہلے ہی وہاں سے اٹھ آئے ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا معمول کے مطابق توپخانے کے گولوں اور میزائلوں کے سمندر میں تجربات کرتا رہتا ہے لیکن اس نے کم ہی اپنی فوجی مشقوں یا اسلحے کے تجربات کے بارے میں پیشگی اطلاع دی ہے۔

تاہم اس مرتبہ اس نے براہ راست فائرنگ کی مشق کی قبل ازوقت اطلاع دی تھی۔حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی کوریا نے راکٹوں اور بیلسٹک میزائلوں کے متعدد تجربات کیے ہیں۔اس کے ان تجربات کو جنوبی کوریا اور امریکا کی موسم بہار میں مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف ایک احتجاجی ردعمل قراردیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے اتوار کو مزید جوہری تجربات کرنے کی بھی دھمکی دی تھی لیکن جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ فی الوقت ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن سے یہ ظاہر ہو کہ وہ کوئی جوہری تجربہ کرنے جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں