یمنی صدر کا ایران پر ملک میں مداخلت کا الزام

ایران سے کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے لیکن وہ یمن سے اپنا ہاتھ کھینچ لے:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے۔

صدر منصور ہادی نے پان عرب روزنامے الحیات کے ساتھ انٹرویو میں ایران پر جنوبی یمن میں علاحدگی پسندوں اور شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے مذہبی گروہوں کی حمایت کا الزام عاید کیا ہے جو ان کے بہ قول ان کے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''بدقسمتی سے ایران کی مداخلت جاری ہے۔خواہ یہ حراک علاحدگی پسندوں کی حمایت کی صورت میں ہے یا شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے مذہبی گروہوں کی حمایت ہے''۔ان کا واضح اشارہ شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں کے لیے ایران کی حمایت کی جانب تھا۔

سوموار کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ''ہم نے اپنے ایرانی بھائیوں سے یمن میں غلط پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے کہا ہے لیکن ہمارے مطالبات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ہم ایران سے کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے لیکن اس کے ساتھ ہم اس سے بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ یمن سے اپنا ہاتھ کھینچ لے''۔

ایران ماضی میں متعدد مرتبہ یمن میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرچکا ہے لیکن یہ یمن ہی نہیں ہے جو اس پر ایسے الزامات عاید کررہا ہے بلکہ سعودی عرب اور امریکا بھی اس پر یمن کی داخلی سیاست میں مداخلت اور خاص طور حوثی اہل تشیع کی حمایت کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ سال یمن نے اپنے ساحلی علاقے میں اسلحے سے لدے ایک بحری جہاز کو پکڑنے کی بھی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ اس کے ذریعے دھماکا خیز مواد اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل یمن میں لانے کی کوشش کی گئی تھی۔تاہم ایران نے اس اسلحے سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں